قومی خبریں

لڑکیوں کی شادی کی حد میں اضافہ ، آوارگی میں اضافہ کا باعث ہوگا:ایم پی شفیق الرحمن برق ؔ

ایم پی شفیق الرحمن برق ؔ نے کی شادی کی عمر بڑھائے جانے کی مخالفت

لکھنؤ، 17دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کئے جا نے کے مرکزی کابینہ کے فیصلے پر اب تک ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ اسی سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمان نے بھی اپنا بیان دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد میں اضافہ کرنے سے آواراگی میں اضافہ ہوگا۔ خیال رہے کہ بدھ کو مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر بڑھانے سے متعلق ایک بل کو منظوری دی گئی ہے۔

یہ بل پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ شادی کی کم از کم عمر بڑھانے کے لیے بچوں کی شادی کے قانون میں ترمیم کی جائے گی۔ فی الحال اس قانون میں لڑکیوں کی شادی کے لیے عمر کی حد 18 سال مقرر کی گئی ہے۔سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق ؔ نے لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھا کر 21 سال کرنے کی تجویز پر کابینہ کی منظوری کے بعد کہا کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے سے آوارگی میں اضافہ ہوگا۔

ان کے اس بیان کے بعد ہنگامہ آرائی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد بڑھانے کے معاملہ پر مسلم معاشرے میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ معاشرے کے اکثر لوگوں نے اس فیصلے کوسراسر غلط قرار دیا ہے۔

برق ؔکے بیان پر کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے کہا کہ ایسا لغو بیان کس نے دیا ، یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ تاہم حکومت کو سائنسی بنیادوں پر فیصلے کرنے چاہئے۔

آئینی شکل میں فیصلہ کریں اور مناسب، قانونی اور سماجی مطابقت کے پس منظرمیں لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر کا فیصلہ کیا جانا بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button