سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

پندرہ اگست- مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی

1857ء کے غدر سے لیکر آج تک اس ملک کی تعمیر اور ترقی میں مسلمان اہم رول ادا کرتے رہے ہیں ۔

جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی

پھر بھی ہم سے یہ کہتے ہیں اہلِ وطن یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر موقع جو قرآن وسنت کے مطابق ہو عبادت ہے ، مسلمان کا سونا،جاگنا، اٹھنا اور بیٹھنا،دوستی، دشمنی، اگر اللہ کے لئے ہے تو یہ بھی عبادت ہے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے عبادات اور احکامات اور زندگی کے اصول امت کو عطا فرمائے اور بتایا کہ تمہارا ہر کام عبادت بن سکتا ہے۔بشرطیکہ قرآن و سنت کے اصول پر ہو، جہاں مسلمان کو پنج وقتہ نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی اور رمضان المبارک کے روزہ کا حکم دیا مالدار پر زکوٰۃ اور حج کو فرض قرار دیا، وہیں لوگوں کو اس بات کی تعلیم دی کہ اپنے ملک اور قوم کی خدمت کا فریضہ انجام دیں ، ملک اور قوم کی خدمت حضرت محمد رسول اللہ کی تعلیم کے مطابق ہوتو یہ بھی عبادت ہے ۔

دو آنکھوں پرجہنم کی آگ حرام ہے

حدیث پاک کے مطابق دو آنکھیں ایسی ہیں کہ جن پرجہنم کی آگ حرام ہے ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئے اور دوسری وہ آنکھ جو سرحد پر حفاظت کیلئے جاگے۔ 15اگست کو ہندوستان کی آزادی کا جشن منایا جاتا ہے، ملک کسی ایک طبقہ کا نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور حقیقتاً ملک اللہ کا ہے وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض وَمَا فِیْھِنَّ جو کچھ بھی زمین اور آسمان کے اندر اور باہرہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مسلمان اپنے ملک کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہے اسی لئے ہندوستان کے مسلمانوں نے اس ملک کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا ہے 1857ء کے غدر سے لیکر آج تک اس ملک کی تعمیر اور ترقی میں مسلمان اہم رول ادا کرتے رہے ہیں ۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا فتویٰ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے دیکھا کہ انگریز وطن عزیز اور مسلمانوں کی بیخ کنی پر اترگیا ہے اورمساجد و مدارس کو نقصان پہونچایا جارہا ہے ، اسلام کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، قرآن کے مقابلے میں بائبل کو لایا جارہا ہے تو اس وقت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فتویٰ صادر فرما دیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کیا جائے اور اس کی حکومت کو یہاں سے مٹا دیا جائے ، بالکل ختم کردیا جائے۔
اس فتویٰ سے پہلے سرزمین کرناٹک کے سپوت حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے آزادی کا پرچم لہرایا اور سارے ہندوستان کی قوتوں کو دعوت دی اور ان کو بتلا دیا کہ ہم اس حال میں بھی انگریز کے خلاف لڑسکتے ہیں ، حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ نے آخری سانس تک ملک اور اسلام دشمن قوتوں کو بھگانے اور اپنے ملک سے نکالنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔

مظالم کی دلخراش داستان

مولانا اسیرادرویؒ نے لکھا ہے کہ لال قلعہ کے سامنے توپ نصب کردی گئی تھی، لوگوں کو لایا جاتا اور توپ میں باندھ دیا جاتا، اور توپ کو داغا جاتا تو پرخچے اڑ جاتے، قیمہ قیمہ ہوجاتا سر دور جاگرتا تھا، ایسے وحشیانہ مظالم دو چار کے ساتھ نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ہیں جو پڑھے لکھے لوگ تھے ،علماء تھے ، دانشوران تھے ایسے لوگوں کو کالا پانی ،انڈومان بھیجا گیا۔
ان مشائخ و محدثین اور علماء کو نشانہ بنایا گیا جو اشاعت اسلام کا کام کررہے تھے انہیں انگریز نے کالا پانی بھیج کر ان سے مشقت لی گئی، جیلوں میں ان سے آٹا پسوایا گیا،چکی چلوائی گئی اور نالیاں صاف کرائی گئیں ، ایسی حقیر خدمت مسلمانوں سے لی گئی یہاں تک کہ بڑے بڑے جید علماء ، نواب، اپنے وقت کے مالدار ترین لوگ جو تحریک آزادی میں شامل تھے انگریزوں نے ان کو کالا پانی بھجوادیا۔

مسلمان ملک میں برابر کا حقدار ہے

نوجوان نسل کو پتہ ہی نہیں کہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے لئے کتنا خون دیا ہے، نوجوان سوچتے ہیں کہ یہ ملک ہندؤں کا ہے حکومت ہندؤں کی ہے لہٰذا ان کے سامنے دب کر رہنا چاہئے، یہ ذہن مسلم نوجوانوں کا بن رہا ہے، نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر احساس کمتری کے بجائے احساس برتری پیدا کریں، یہ بات سوچ لیں کہ جس طرح سے اس ملک پرایک ہندو کا حق ہے ، ایک عیسائی کا حق ہے ،ایک سکھ کا حق ہے اسی طرح مسلمان بھی اس ملک میں برابر کا حقدار ہے ، مسلمانوں نے ملک کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں،اپنی جان ، مال اورعزت و آبرو کو قربان کیا ہے جب ملک تقسیم ہوا مسلمانوں کو جگہ جگہ خانہ جنگی کے ذریعہ قتل کیا گیا، ’’جب امرتسر جل رہا تھا‘‘ نامی کتاب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ 90 لاکھ مسلمانوں کو اس زمانے میں شہید کیا گیا محض اسلئے کہ یہ مسلمان تھے ، مسلمانوں نے اتنی بڑی قربانی دی مگر افسوس کہ ہمارے نوجوانوں کو معلوم نہیں کہ اس ملک کے لئے ہم نے بہت کچھ قربان کیا ہے، ہمارے بزرگوں نے اس ملک کی آزادی کی خاطر سو سال تک نسل در نسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ

شملہ میں جلسہ ہورہا تھا انگریز وائسرائے تقریر میں کہہ رہا تھا کہ کون ہے جو ہمیں اس ملک سے نکال دے؟ اس کی بات پر سب خاموش تھے ،شیخ الاسلام مولانا مدنی ؒجو دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے ، جنہوں نے چودہ سال تک مسجد نبوی میں درس دیا، کھڑے ہوگئے اور سینے کے بٹن کھول کر کہنے لگے کہ او بندر! تجھے اور تیری قوم کو ہندوستان سے ہم نکالیں گے ، اس نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیے میں آپ سے بات نہیں کررہا ہوں۔

علماء دیوبند ملک کی تقسیم کے خلاف تھے

یہ ہمارے علماء کی قربانی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو جانباز اور بے باک بنایا تھا ، سوائے خدا کے دنیا کی کسی بھی طاقت سے نہیں ڈرتے تھے اور ہندوستان کو آزادی ہمارے علماء اور عوام خصوصاً مسلم عوام نے دلائی ہے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کا آخری گورنر تھا اس کو معلوم تھا اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تو آئندہ چل کر پھر مسلمان اس ملک کے بادشاہ اور حکمراں بنیں گے ،اس لئے برٹش حکومت نے پالیسی بنائی کہ ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں تاکہ پھر ہندوستان میں حکومت مسلمانوں کے ہاتھ نہ آئے ، علماء دیوبند نے ہمیشہ ملک کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم ملک کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن محمد علی جناح کو خود انگریز اور فتنہ پرور عناصر نے ابھارا اور کہا کہ تم ملک کا ایک حصہ لے لو اور اپنا الگ ملک بنالو، حضرت مولانا ابوالکلام آزاد جو ہندوستان کے سب سے پہلے وزیر تعلیم تھے انہوں نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر کہا کہ اے میرے پیارے بھائیو! آج آپ لوگ پاکستان جارہے ہیں ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہاں آپ کی قدر نہیں ہوگی اور آپ اور آپ کی نسلیں ہندوستان کو یاد کرکے روئیں گی ، آج وہاں ایسا ہی ہورہا ہے۔
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ یہ ملک ہمارا ہے ، اس ملک کے لئے ہم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، ملک کو ہم نے بنایا اور سنواراہے اور ہمارے بزرگوں نے آئندہ کے لئے لائحہ عمل تیار بھی کیا تھا، اس مختصر مضمون میں وہ ساری باتیں بیان نہیں کی جاسکتی لیکن اس سلسلے میں میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ 15 اگست کو ہندوستان کی آزادی کا جشن منایا جاتا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں آزادی مل گئی حقیقت یہ ہے کہ ابھی ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے جائز اور ضروری حقوق نہیں مل سکے ہیں اس کے لئے حکومت میں مسلمان حصہ داری چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین!

ملک کی آزادی میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ قربانیاں لیکن کون جانتا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button