ہندوستان -چین سرحدی کشیدگی سے بڑے ٹکراؤ کا خطرہ ہے: آرمی چیف
اس وقت چین اور امریکہ کے درمیان طاقت کی دشمنی دہلی اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر رہی ہے
نئی دہلی ، 30مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ انڈین سرحد پر چینی فوج کی دراندازی سرحدی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے جس سے ’بڑا تنازع‘ جنم لے سکتا ہے۔جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ اس وقت چین اور امریکہ کے درمیان طاقت کی دشمنی دہلی اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے پیپلزلبریشن آرمی (پی ایل اے) کو ہندوستان کے ساتھ سرحدی معاہدوں کی خلاف ورزی کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ساوتری بائی پھلے پونہ یونیورسٹی اور نئی دہلی میں واقع سینٹر فار چائنا اینالسس اینڈ اسٹریٹجی کے زیر اہتمام چین کا عروج اور دنیا پر اس کے مضمرات‘ کے موضوع پر جنرل پانڈے کی اہم تقریر کے دوران انڈیا اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے پر اب تک کا سب سے بڑا بیان سامنے آیا۔
مشرقی لداخ کی سرحدوں پر انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے فوج کے سربراہ نے کہا کہ ایل اے سی کے بارے میں مختلف تاثرات‘ کے باعث فوجوں کے درمیان سرحدی علاقوں پر تنازعات اور متنازع دعوے بدستور موجود ہیں۔جنرل پانڈے نے کہاکہ خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافے کا ایک ممکنہ محرک بنی ہوئی ہیں۔ اس لیے بارڈر منیجمنٹ کی خاطر انتہائی سخت نگرانی کی ضرورت ہے کیونکہ بارڈر مینجمنٹ میں خامیاں بہت بڑے تنازعات کا باعث بن سکتی ہیں۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دو جنوبی ایشیائی ممالک کے سرحدی تنازعات کی تاریخ دہائیوں پرانی ہے۔ یہ تین سال سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے نام سے جانی جانے والی اپنی سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔دریاؤں، جھیلوں اور ناہموار پہاڑوں کے ساتھ دور افتادہ علاقے میں کشیدگی، جھڑپوں میں بدل گئی ہے۔ کئی بار دونوں ملک کی فوجیں آپس میں متصادم ہوچکی ہیں۔



