بین الاقوامی خبریں

جدہ: ہندوستانی قونصل خانے کا منفرد سفارتی اقدام، یوگا اور ہندوستانی آموں کے ذریعے سعودی عرب سے ثقافتی و تجارتی تعلقات کو فروغ

ہندوستانی قونصل خانے کی یوگا اور مینگو فیسٹیول تقریب، سعودی عرب سے تعلقات مضبوط

جدہ :  (عبدالرحمن مرزا بیگ) سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے نے "انڈیا کی فلاح و بہبود اور ذائقے” کے عنوان سے ایک منفرد اور رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں یوگا، ہندوستانی آموں اور ثقافتی سفارت کاری کو ایک ہی پلیٹ فارم پر پیش کرتے ہوئے ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان عوامی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

تقریب میں سعودی وزارتِ خارجہ، وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت، وزارتِ اطلاعات، مختلف سفارتی مشنز، سعودی یوگا کمیٹی، جدہ اور مکہ چیمبرز، ممتاز سعودی و ہندوستانی صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، ہندوستانی برادری اور دونوں ممالک کے دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بین الاقوامی یومِ یوگا 2026 کی مناسبت سے منعقدہ اس پروگرام میں یوگا کی عملی سرگرمیوں کے ساتھ انڈین مینگو ٹریل بھی پیش کیا گیا، جہاں مہمانوں نے ہندوستان کی مشہور اقسام چوسا، دسہری، لنگڑا، الفانسو اور حمایت سمیت اعلیٰ معیار کے آموں کا ذائقہ چکھا۔

یوگا صحت مند زندگی کا پیغام ہے: فہد احمد خان سوری

جدہ میں ہندوستانی قونصل جنرل فہد احمد خان سوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس تقریب کا مقصد صرف یوگا یا آموں کی نمائش نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی، خاندانی اقدار، باہمی دوستی اور ہندوستان و سعودی عرب کے مضبوط تعلقات کا جشن منانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی یومِ یوگا 2026 کا موضوع "صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا” ہے، جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اچھی صحت کا آغاز روزمرہ کی مثبت عادات سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ چند منٹ کی سانس کی مشقیں، ہلکی ورزش، جسمانی حرکات اور مراقبہ ذہنی دباؤ کم کرنے، توجہ بڑھانے اور زندگی میں سکون پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ ہندوستانی قونصل خانہ سعودی عرب کے مغربی علاقوں میں یوگا کے فروغ کے لیے مسلسل مختلف پروگرام منعقد کر رہا ہے، جبکہ سعودی یوگا کمیٹی بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ہندوستانی آموں کی نمائش مرکزِ توجہ

تقریب کا سب سے دلکش حصہ انڈین مینگو ٹریل تھا، جہاں ہندوستانی آموں کی مختلف اقسام کے ساتھ مینگو لسی، مینگو فالوودہ، سلاد، اچار، پیسٹری، ٹارٹس اور مینگو کنافہ پیش کیے گئے، جنہیں شرکاء نے بے حد پسند کیا۔

تقریب میں شریک سعودی اور ہندوستانی کاروباری شخصیات نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی سفارت کاری، زرعی تجارت اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی ایک کامیاب مثال قرار دیا۔

سعودی عرب، ہندوستانی آموں کی بڑی منڈی

ممتاز صنعت کار زکریا بلالی نے بتایا کہ سعودی عرب ہندوستانی آموں کی اہم درآمدی منڈیوں میں شامل ہے، جہاں ہر سال تقریباً 1.02 لاکھ میٹرک ٹن آم درآمد کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ہندوستان نے تقریباً 29,938 میٹرک ٹن تازہ آم برآمد کیے جن کی مالیت 56.5 ملین امریکی ڈالر رہی، جبکہ ہندوستانی مینگو پلپ کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی سعودی عرب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویژن 2030 کے تحت فوڈ سکیورٹی اور ریٹیل سیکٹر میں توسیع کے باعث مستقبل میں ہندوستانی زرعی مصنوعات خصوصاً آموں کی برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ثقافتی سفارت کاری کی مؤثر مثال

تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یوگا، ثقافت، خوراک اور تجارت کو یکجا کرنے والی ایسی سرگرمیاں نہ صرف عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، سرمایہ کاری، زرعی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کو بھی نئی جہت فراہم کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button