بھارت کے عظیم جنگجوحولدارعبدالحمید بھارتی فوج کی شان۔ جنہوں نے پاکستان کے خلاف جنگ میں ایک ایسی مثال قائم کی تھی جسے دنیا بھلا نہیں پائے گی۔ جنگ کے میدان میں طاقت کے دماغ کے استعمال کا نمونہ پیش کیا تھا جس نے پاکستان کو ایک تلخ تجربہ کا شکار کیا تھا۔ وہ شہید ہوئے مگر ملک کی ایسی خدمت انجام دے گئے جسے آج بھی ملک و قوم سلام کرتا ہے۔
حولدار ویر عبدالحمید کی پیدائش یکم جولائی 1933 کو ہوئی۔ ویرعبدلحمید اترپردیش کے ضلع غازی پور کے دھاموں پور میں پیدا ہوئے اور 10 ستمبر 1965 میں پاکستان سے جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔جس کے بعد انہیں فوج کے سب سے بڑے اعزاز ’’پرم ویر چکر‘‘ سے نوازا گیا۔
دراصل ۸ اور ۹ ستمبر 1965 کی رات کو جب پاکستان نے بھارت پر حملہ کیا تو بھارتی فوج کے جوان اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ویر عبد الحمید پنجاب کے ضلع ترن تارن،کھیم کرن سیکٹر میں فوج کی فرنٹ لائن میں تعینات تھے۔
پاکستان نے ’’امریکن پیٹن ٹینکس‘‘ کے ساتھ ’’کھیم کرن‘‘ سیکٹر کے ’’اصل اُتاڑ‘‘ گاؤں پر حملہ کردیا۔اس وقت بھارتی فوجیوں کے پاس نہ تو ٹینک تھے نہ ہی بڑے ہتھیار لیکن ان میں وطن عزیز کی تحفظ کے لئے لڑتے ہوئے شہید ہونے کی تمنا تھی۔چنانچہ بھارتی فوجی اپنے عام’’تھری ناٹ تھری رائفلز‘‘ اور ایل۔ایم۔ایم۔جی۔سے پاکستانی پیٹن ٹینکوں کا سامنا کرنے لگے۔لیکن حولدار ویر عبدالحمید کے پاس’’گن مائن ٹیڈ جیپ‘‘ تھی جو ’’پیٹن ٹینکوں‘‘ کے سامنے کھلونا کے مترادف تھی۔
ویر عبد الحمید اپنی جیپ پر بیٹھے ہوئے اپنی بندوق سے ایک ایک کرکے دھماکے کرنے لگے۔ انہوں نے’’ پیٹن ٹینکوں‘‘ کے کمزور حصہ کا درست نشانہ بنایا۔انہیں یہ کرتے دیکھ کردیگر فوجیوں کے بھی حوصلہ بلند ہوگئے ۔پاک فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ویر عبد الحمید نے اپنی ’’گن مائن ٹیڈ جیپ‘‘ سے سات ’’پاکستانی پیٹن ٹینکوں‘‘کو تباہ کردیئے۔
بھارت کا’’اصل اتاڑ گاؤں‘‘’’پاکستانی پیٹن ٹینکوں‘‘ کا قبرستان بن گیا۔ فرار ہونے والے پاکستانیوں کا پیچھا کرنے کے دوران ایک گولہ’’ویر عبدالحمید‘‘ کی جیپ پر گرجانے سے وہ بری طرح سے زخمی ہوگئے اور اگلے ہی دن 9 ؍ستمبر کو شہید ہوگئے۔10؍ ستمبر کو ان کی شہادت کا سرکاری اعلان کیا گیا۔



