بین الاقوامی خبریں

انڈیا نے کینیڈا کی خودمختاری میں مداخلت کی،کینڈین وزیراعظم ٹروڈو

انڈیا نے کینیڈا کی خودمختاری میں مداخلت کی،کینڈین وزیراعظم ٹروڈو

اوٹاوہ،17اکتوبر (ایجنسیز)

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ انڈیا نے ان کے ملک کی خودمختاری میں مداخلت کر کے ایک ’خوفناک غلطی‘ کی ہے۔برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق غیرملکی مداخلت کے معاملے پر انکوائری کمیشن کے سامنے گواہی میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ انڈین حکومت نے یہ سوچ کر خوفناک غلطی کی ہے کہ وہ اس حد تک جارحانہ مداخلت کر سکتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کینیڈا کے تحفظ اور خودمختاری میں کی۔ ہمیں کینیڈا کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جواب دینا ہوگا۔

بدھ کو کمیٹی کے سامنے تفصیلی ریمارکس میں ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا انڈیا کے ساتھ اپنے قیمتی تعلق کو ’تباہ‘ نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن ہردیپ سنگھ کے قتل کے بعد ہمیں واضح اور اب مزید واضح اشارے ملے ہیں کہ انڈیا نے کینیڈا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔واضح رہے انڈیا میں سکھوں کی خالصتان تحریک کی حامی شاخ کے عہدیدار ہردیپ سنگھ نجر کو گذشتہ سال 18 جون میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ گوردوارے کے اندر موجود تھے۔

اپنی گواہی میں جسٹن ٹروڈو نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس معلومات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مخالف سیاسی جماعت کنزرویٹیو پارٹی بھی غیر ملکی مداخلت کی کوششوں میں شامل تھی یا شمولیت کا اعلیٰ خطرہ موجود تھا۔اس سے قبل کینیڈا کی پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ انڈین سفارتکاروں نے کرمنل نیٹ ورک کے ساتھ مل کر سکھوں کو نشانہ بنایا ہے تاہم انڈیا نے تردید کی ہے۔

جسٹس ٹروڈوں کے بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کینیڈا نے انڈیا اور انڈین سفارت کاروں کے خلاف لگائے گئے سنگین الزامات کی حمایت میں ہمیں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔ اس لاپرواہ رویے سے انڈیا اور کینیڈا کے تعلقات کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹروڈو پر عائد ہوتی ہے۔تاہم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کینیڈین حکام نے نجی طور پر انڈین ہم منصبوں کے ساتھ شواہد شیئر کیے ہیں ؛لیکن انہوں نے تعاون نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button