اسپورٹسسرورققومی خبریں

عظیم ہندستانی فلائنگ سکھ ملکھا سنگھ کا کورونا کی وجہ سے انتقال

چندی گڑھ، 19جون : (اردودنیا/ایجنسیاں)’فلائنگ سکھ‘ کے نا م سے مشہور ہندستانی رنر ملکھا سنگھ کا جمعہ کی رات جان لیوا کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ وہ 91برس کے تھے۔ ان کے کنبہ کے ترجمان نے یہ اطلاع دی۔ ان کے کنبہ میں تین بیٹیاں ڈاکٹر مونا سنگھ، الیزا گرور، سونیا سانولکا اور ایک بیٹا معروف گولفر جیو ملکھا ہیں۔1958دولت مشترکہ کھیلوں کے چیمپیئن اور 1960 کے روم اولمپکس کی 400 میٹر دوڑ میں ریکارڈ توڑنے کے باوجود تمغے سے محروم رہے ملکھاسنگھ نے چنڈی گڑھ کے پی جی آئی اسپتال میں جمعہ کی رات آخری سانس لی۔

انہوں نے 1956اور 1964کے اولمپک میں بھی ہندستان کی نمائندگی کی۔ انہیں 1959میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔

ان کی صحت کے تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہوئے پی جی آئی ایم ای آر ہسپتال نے کہا تھا کہ جمعہ کی شام کووڈ 19 کے بعد پیدا شدہ پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی حالت نازک ہوگئی تھی۔ ان کا آکسیجن لیول کم ہونے لگا اور انہیں بخارآگیا تھا۔گزشتہ مہینے سے کووڈ۔19 سے متاثر ملکھا سنگھ کی کورونا جانچ رپورٹ بدھ کے روز منفی آئی تھی، جس کے بعد انہیں کووڈ آئی سی یو سے جنرل آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی صحت کی نگرانی کر رہی تھی.گذشتہ شب انہیں بخارآگیا اور ان کا آکسیجن لیول گر گیا تھا۔

تاہم اس سے پہلے ان کی حالت مستحکم تھی۔ انہیں گزشتہ ماہ کووڈ۔19 انفیکشن ہوگیا تھا۔ ان کی اہلیہ 85 سالہ بین الاقوامی کھلاڑی نرمل کورکا بھی پانچ دن قبل اتوار کے روز موہالی کے ایک نجی اسپتال میں کووڈ 19 انفیکشن سے انتقال ہو گیا تھا۔ ملکھا اسپتال میں ہونے کی وجہ سے اہلیہ کی آخری رسومات میں شامل نہیں ہوسکے تھے۔

ملکھا سنگھ کے انتقال سے ایتھلیشٹکس کی دنیا میں ایک عظیم دور کا اختتام ہوگیا۔ صدر، نائب صدر، وزیراعظم، کھیل کے وزیر سے لیکر ملک کی معروف ہستیوں نے کووڈ ڈ کی زدگ میں آنے سے قبل نوجوانوں کی طرف فٹ ملکھا سنگھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے ملکھا سنگھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ہم نے ایک عظیم کھلاڑی کھو دیا ہے۔ ہندستانیوں کے دلوں میں ملکھا سنگھ کے لئے خاص جگہ تھی۔انہوں نے لوگوں کو اپنی شخصیت سے متاثر کیا۔ میں ان کے انتقال سے بہت دکھی ہوں

متعلقہ خبریں

Back to top button