بین ریاستی خبریں

ہند-پاک میچ فکس تھا، پاکستان کو 1000 کروڑ کا فائدہ ہوا: سنجے راؤت

بی سی سی آئی اور جے شاہ نے پاکستان کو پہنچایا فائدہ

ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دبئی میں کھیلا گیا کرکٹ میچ ایک بڑے سیاسی تنازعے میں بدل گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ میچ مکمل طور پر فکس تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سے 1000 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

راؤت نے 15 ستمبر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’یہ میچ ہونا ہی حکومت کی بے شرمی ہے۔ چاہے دبئی ہو یا ابوظبی، اگر ہندوستان اور پاکستان کا میچ کھیلا گیا ہے تو یہ ہماری فوج، شہیدوں اور خواتین کی بے عزتی ہے۔‘‘

سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ میچ پر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا سٹہ لگا اور اس میں سے 50 ہزار کروڑ روپے پاکستان کو گئے۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کو براہِ راست 1000 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کے سکریٹری جے شاہ نے اس میں کردار ادا کیا اور یہ پیسہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوگا۔

سنجے راؤت نے جذباتی انداز اپناتے ہوئے کہا: ’’میچ کھیلنے سے کیا شہیدوں کا سندور واپس آئے گا؟‘‘ انھوں نے حکومت پر سوال اٹھایا کہ جب پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد حالات کشیدہ تھے تو پھر ہندوستان-پاکستان میچ کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟

شیوسینا پہلے ہی اس میچ کے خلاف ’سندور رکشا تحریک‘ کا اعلان کر چکی تھی۔ دوسری جانب کانگریس نے محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سنجے راؤت کے الزامات کے حقائق پر سوال ہیں، لیکن میچ ہونے پر قوم میں ناراضگی ضرور ہے۔ کانگریس لیڈر پاون کھیڑا نے کہا کہ ’’میچ فکسنگ کا مطلب عام طور پر شرط اور پیسے سے جڑا ہوتا ہے، لیکن یہ پورا معاملہ واقعی بڑا تنازعہ بن گیا ہے۔‘‘

بی سی سی آئی افسران نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ یہ میچ حکومت ہند کی منظوری کے بعد ہی کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن سنجے راؤت کے الزامات نے حکومت اور کرکٹ بورڈ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button