سرورققومی خبریں

بھارت میں مردم شماری کا آغاز، آبادی اور ذات پات کے اعداد و شمار سے سیاسی نقشہ بدلنے کا امکان

دنیا کی سب سے بڑی مردم شماری کا آغاز

نئی دہلی 01 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارت میں طویل تاخیر کے بعد اپنی قومی مردم شماری کا آغاز کر دیا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی گنتی تصور کی جاتی ہے اور اس کے نتائج ملک کی فلاحی اسکیموں اور سیاسی نمائندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

بھارت کی آخری مردم شماری سن 2011 میں ہوئی تھی، جس میں آبادی 1.21 ارب ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اب اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1.4 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔

یہ مردم شماری اصل میں 2021 میں ہونا تھی، تاہم کورونا وبا اور دیگر انتظامی مشکلات کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب اس عمل کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے کا آغاز بدھ کے روز ہوا ہے اور یہ ستمبر تک ملک بھر میں جاری رہے گا۔ اس دوران اہلکار گھروں، رہائشی سہولیات اور زندگی کے حالات سے متعلق معلومات جمع کریں گے۔ اس عمل میں روایتی سروے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نظام بھی استعمال کیا جائے گا، جس کے تحت شہری ایک کثیر لسانی موبائل ایپ کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کر سکیں گے۔

دوسرا مرحلہ ستمبر سے اگلے سال یکم اپریل تک جاری رہے گا، جس میں افراد کی سماجی اور معاشی خصوصیات، جیسے مذہب اور ذات پات سے متعلق تفصیلات جمع کی جائیں گی۔ اس پورے عمل میں 30 لاکھ سے زائد سرکاری اہلکار حصہ لیں گے۔

اس مردم شماری کا ایک اہم پہلو ذات پات سے متعلق جامع ڈیٹا جمع کرنا ہے۔ بھارت میں ذات پات کا نظام صدیوں پرانا ہے اور یہ سماجی حیثیت، تعلیم اور معاشی مواقع تک رسائی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ملک میں مختلف پیشوں اور معاشی بنیادوں پر سینکڑوں ذاتیں موجود ہیں، تاہم ان کی درست تعداد اور تناسب کے حوالے سے تازہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ ذات پات کی مکمل گنتی آخری بار 1931 میں برطانوی دور حکومت میں کی گئی تھی، جبکہ آزادی کے بعد صرف درج فہرست ذاتوں اور قبائل یعنی دلتوں اور آدیواسیوں کو مردم شماری میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق نئی مردم شماری کے نتائج حکومت کی فلاحی پالیسیوں، وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ یہ عمل ملک کے سیاسی نقشے میں بھی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں آبادی کے حساب سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں منظور کیے گئے قانون کے تحت قانون ساز اداروں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی ہیں، اس لیے اگر نشستوں میں اضافہ ہوتا ہے تو خواتین نمائندگی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button