ریاض، 30ستمبز:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عرب گروپ آف پکچرز نے سعودی عرب کے سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی بھارتی ایکشن فلموں کا اعلان کردیا۔ پہلی ایکشن اور تھرلر فلم ’’ vikram vedha‘‘ ہے جو 29 ستمبر کو ریلیز ہوئی۔ یہ ایک تجربہ کار پولیس افسر کے گرد گھومتی ہے جو ایک خطرناک گینگسٹر کا سراغ لگاتا اور اسے گرفتار کرتا ہے۔ وہ نیکی اور بدی کی اس جنگ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔دوسری فلم پونی ین سلوان ہے۔ یہ فلم 30 ستمبر کو ریلیز آئی میکس ٹیکنالوجی میں ریلیز ہورہی۔ یہ فلم دسویں صدی میں شولا سلطنت کے زوال کے بعد لوگوں میں ہونے والی خانہ جنگی کی حالات پیش کر رہی ہے۔
یہ اقتدار کیلئے خونریز جنگ کا احاطہ کرتی ہے۔ ایک طرف اقتدار پر غلبہ کرنے والے لوگ اور دوسری طرف انتقام کی آگ میں جلنے والے لوگ جنگ لڑ رہے ہیںوکرم ویدھا میں ہریتک روشن، رادھیکا آپٹے، سیف علی خان اداکاری کر رہے ، فلم کی ہدایت کاری پشکر اور گایتری نے کی ہے۔ فلم پونی ین سلوان ون میں وکرم، ایشوریہ رائے، کارتی، جام راوی کی اداکاری دیکھنے کو ملے گی۔ اس فلم کی ہدایت کاری منی رتنم نے کی ہے۔خیال رہے عرب پکچرز گروپ تفریحی صنعت کی ایک سرکردہ کمپنی ہے۔ یہ کمپنی تمام الیکٹرانک پلیٹ فارمز پر فلموں اور سیریز کی پروڈکشن اور تقسیم کا کام کرتی ہے۔
عرب پکچرز گروپ مواد بنانے والوں میں ایک ماحولیاتی نظام کی تعمیر پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ جس میں عرب پکچرز کمپنیاں ایک دوسرے کے کام کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ سے لے کر بڑے پیمانے پر فلم کی تیاری اور تقسیم تک کے منصوبوں میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔فلمیں وکرم ویدیا اور پونی ین سلوان ون جن سعودی سینما گھروں میں دکھائی جا رہی ہیں ان میں اے ایم سی سینما، میوی سینما، ووکس سینما،ایمپائر سینما، سینی پولیس سینما شامل ہیں۔
تقریبات میں شرکت کیلئے جبری شرائط:حوثیوں کے طالبات کو دبانے کے اوچھے ہتھکنڈوں کا انکشاف
ریاض، 30ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر تحت نام نہاد ’سابق گریجو ایٹس کلب‘ کی طلبہ کو دباؤ میں لانے کی سرگرمیاں منظر عام پر آنے سے غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حوثیوں کے نام نہاد طلبہ گروپوں کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس اور ہیش ٹیگس کی بھرمار ہوگئی ہے۔ سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں قائم کئے گئے حوثی کلب نے طلبہ کو زیر تحت لانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردئیے ہیں۔گریجوایٹس کے اس کلب کو حوثی سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ کلب طلبہ کی آزادیوں کو دبانے ، بندوق کی نوک پر ان سے رقم لوٹنے اور اپنی سرگرمیوں میں انہیں زبردستی شریک کرنے کی کارروائیوں میں شریک ہے۔
اس کلب نے ایک سخت ضابطہ جاری کیا تھا جس کے تحت طلبہ کو گریجوایشن کی تقریبات کو فرقہ وارانہ انداز میں منعقد کرنے کے لیے رقم ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔ طلبہ کو لباس، تصاویر، موسیقی اور کنسرٹ کے پروگراموں اور پیراگراف میں خوشی کے اظہار سے بھی روکا گیا تھا۔اسی تناظر میں بعض یمنی طلبہ نے خبررساں ایجنسی سے بات کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حوثیوں کی اتھارٹی نے جاہلانہ اور سکیورٹی کے نام پر کئے گئے اقدامات کے ذریعہ تعلیمی برادری کی سرگرمیوں، تعلیمی عمل اور اعلی تعلیم کے شبعوں پر قبضہ جما لیا ہے۔حوثیوں ملیشیا نے یونیورسٹی کے تمام فیکلٹی اور ڈیپارٹمنٹس میں اپنے ارکان کو بھری کرکے اپنا مکمل رسوخ جما لیا ہے۔
طلبہ نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کے سابق طلبا کلب نے یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کے خلاف جابرانہ اور رجعتی طرز عمل کا ارتکاب کیا۔یونیورسٹی طلبہ پر اپنا اثر و رسوخ مسلط کیا اور گریجوایشن کی تقریبات میں مداخلت کرکے من مانی تبدیلیاں کرائیں۔ نئے گریجوایٹس پر اپنا پروگرام اس حد تک تھوپ دیا گیا کہ نیل پالش کے رنگ سے لیکر لباس کی قسم اور کنسرٹ میں بولے جانے والے پیراگراف تک میں رد و بدل کرایا گیا۔حوثی ملیشیا کے زیر تسلط گروپ نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں پر اپنی مرضی مسلط کی۔
تاہم اس حوالے سے طالبات کوزیادہ پریشان کردیا گیا۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ارویٰ عامر نے بتایا کہ الومنائی کلب لباس کی لمبائی، اس کی رنگت کا جائزہ لینے سے پہلے کسی بھی گریجوایشن تقریب کے انعقاد کی منظوری نہیں دیتا۔ عبایا اور جوتوں کی شکل تک کا تعین کلب کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
اس نے نشاندہی کی کہ انہوں نے کھلے انداز کے جوتوں پر پابندی لگا دی، اور انہوں نے گریجوایشن تقریب کی تصاویر میں موجود طالبات کے چہروں اور ہاتھوں کو مٹا دیا۔ایک اور گریجوایٹ علا سالمی نے کہا حوثی گروپ احمقانہ د تک ایرانی تجربے کو یہاں لاگو کرنا چاہتا اور یمنی عوام پر ایک نئی شناخت مسلط کر رہا ہے۔طلبا ، سماجی کارکنوں اور معاشرے کی بااثر شخصیات نے اس کلب کی جانب سے جاری جابرانہ ہدایات پر مبنی دستاویز کو سوشل میڈیا پھر شیئر کیا۔



