قومی خبریں

ہندوستانی شیئر مارکٹ میں تاریخی گراوٹ‘ سرمایہ کاروں کو 20 لاکھ کروڑ کا نقصان

سرمایہ کاروں کیلئے 1992کے ہرشد مہتا اسکام اور 2008کی عالمی اقتصادی مندی کی یاد تازہ

 شیئر مارکیٹ میں ہنگامہ: بلیک منڈے کی واپسی

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ہندوستانی شیئر بازار میں آج کا دن ایک بڑے زلزلے کا دن ثابت ہوا۔ بی ایس ای سینسیکس میں تقریباً 3300 پوائنٹس کی زبردست گراوٹ درج کی گئی، جو اسے 72389 کے نشان پر لے آئی، جب کہ این ایس ای نفٹی 920 پوائنٹس گر کر 21977 پر ٹریڈ کر رہی تھی۔

صبح کے پری اوپن سیشن میں سینسیکس 4000 پوائنٹس اور نفٹی 1100 پوائنٹس تک گر چکی تھی، جو کہ مارکٹ کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

20 لاکھ کروڑ روپے کا سرمایہ ڈوبا

آج کے دن ہندوستانی سرمایہ کاروں کی محنت کی کمائی میں تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے کا زبردست نقصان درج کیا گیا۔ اتنی بڑی رقم کا ڈوب جانا صرف مالی نقصان نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی گہرا اثر ڈالنے والا عمل ہے۔

ٹرمپ کے ٹیرف بم کا عالمی اثر

ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ صرف ہندوستانی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان نے عالمی معیشت میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اسے "کڑوی دوا” قرار دیا، جس کے بعد نہ صرف ایشیائی بلکہ امریکی بازار بھی بری طرح متاثر ہوئے۔

تاریخی موازنہ: ہرشد مہتا اور 2008 کی مندی

یہ حالیہ گراوٹ 1992 کے ہرشد مہتا اسکام اور 2008 کی عالمی اقتصادی مندی کی یاد دلا رہی ہے۔ اُس وقت بھی سرمایہ کاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا اور بازار کا اعتماد کئی سال تک بحال نہ ہو سکا تھا۔

سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل

مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار اب محفوظ سرمایہ کاری جیسے سونے، بانڈز اور دیگر سیکٹرز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

عالمی منڈیوں کا اثر

آج صبح کے دوران ایشیائی بازاروں میں بھی زبردست گراوٹ دیکھنے کو ملی، اور گفٹ نفٹی نے بھی 900 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ دن کا آغاز کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت دباؤ میں ہے۔

 ہندوستانی شیئر بازار میں آج کی گراوٹ صرف مالی سطح پر نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جھٹکا بھی ہے، جو سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر 90 کی دہائی کی یاد دلا رہا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کا اثر عالمی سطح پر دیکھا جا رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں بازار کی صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button