امریکی پولیس کی فائرنگ میں تلنگانہ کے محمد نظام الدین ہلاک، اہل خانہ نے انصاف اور تحقیقات کا مطالبہ کیا
بھارت میں غم و غصہ30 سالہ نظام الدین کا تعلق تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر سے تھا
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں بھارتی ٹیکنالوجی ماہر محمد نظام الدین کو پولیس کی فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا۔ 30 سالہ نظام الدین کا تعلق تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر سے تھا اور وہ سانتا کلارا میں ایک ٹیک کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق سانتا کلارا میں ان کے گھر سے ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی تھی جس میں چاقو سے حملے کی اطلاع دی گئی تھی۔ پولیس کے بیان کے مطابق، اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر نظام الدین کو اپنے روم میٹ پر حملہ کرتے دیکھا اور مزاحمت کے دوران فائرنگ کر دی۔ روم میٹ زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے، جبکہ نظام الدین کو اسپتال لے جانے کے بعد مردہ قرار دے دیا گیا۔
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی کہانی حقیقت سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خود نظام الدین نے پولیس کو فون کر کے مدد طلب کی تھی لیکن الٹا انہی کو گولی مار دی گئی۔
اہل خانہ نے مزید کہا کہ مرحوم ایک پرسکون اور مذہبی نوجوان تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی مرتبہ نسلی امتیاز، ہراسانی، اجرت کی دھوکہ دہی اور نوکری سے ناحق برطرفی کی شکایت کی تھی۔ ان کی ایک لنکڈ اِن پوسٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے "نسلی نفرت اور سفید فام برتری” کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔
نظام الدین کے والد محمد حسن الدین سے ملاقات کرنے والے مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھ کر بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانے سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ میت کو بھارت واپس لانے اور واقعے کی مکمل رپورٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔
اہل خانہ نے بھارتی وزارت خارجہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ سانتا کلارا کے اسپتال میں موجود نظام الدین کی میت کو جلد بھارت منتقل کیا جا سکے۔



