شہزادی خان کی پھانسی – انصاف یا ناانصافی؟ دل دہلا دینے والی داستان
شہزادی کی میت بھارت نہیں لائی جائے گی، یو اے ای میں آخری رسومات ادا ہوں گی
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)متحدہ عرب امارات میں ایک 33 سالہ ہندوستانی خاتون، شہزادی خان، کو چار ماہ کے بچے کے قتل کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی، لیکن بھارتی حکومت کو اس واقعے کی کوئی اطلاع نہ تھی۔ خاتون کے والد، شبیر خان، کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے پر اس معاملے کا انکشاف ہوا۔
شبیر خان کے مطابق، ان کی بیٹی دسمبر 2021 میں ملازمت کے سلسلے میں ابوظہبی گئی تھی، جہاں وہ ایک مقامی خاندان کے ہاں ملازمت کر رہی تھی۔ اگست 2022 میں اس کے آجر کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی، جس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری شہزادی خان کے سپرد تھی۔ دسمبر 2022 میں حفاظتی ٹیکے لگوانے کے دوران بچے کی موت واقع ہوگئی۔
عدالتی کارروائی اور اعترافی بیان عدالت میں استغاثہ کی جانب سے ایک ویڈیو ریکارڈنگ پیش کی گئی، جس میں شہزادی خان نے بچے کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم، خاتون کے والد نے اس اعترافی بیان کو جبری اور تشدد کے ذریعے حاصل شدہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ان کی بیٹی پر دباؤ ڈال کر یہ بیان لیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیر خوار کے والدین نے بچے کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا اور تفتیش ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ باوجود اس کے، شہزادی خان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہی اور بالآخر اسے سزائے موت دے دی گئی
یوپی کے ضلع باندہ کی شہزادی، جسے 19 دسمبر 2021 کو ابوظہبی بھیجا گیا تھا، درحقیقت صرف بھیجی نہیں گئی بلکہ اپنے ہی عاشق عزیر کے ہاتھوں بیچ دی گئی۔ شہزادی محض 8 سال کی تھی جب کچن میں چولہے سے اُبلتا ہوا پانی اس کے چہرے پر گر گیا، جس سے اس کا چہرہ اور جسم کے کچھ حصے جھلس گئے۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے "روٹی بینک” نامی ایک این جی او سے بھی جڑ گئی۔
شہزادی کا صرف ایک ہی خواب تھا—وہ اتنا پیسہ کمائے کہ پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنا چہرہ ٹھیک کر سکے۔ وہ اسی جدوجہد میں مصروف تھی کہ پھر 2020 آ گیا، وہی بدقسمت سال جو کورونا وبا لے کر آیا اور دنیا کو مشکلات میں دھکیل دیا۔
کورونا نے سب کو گھروں تک محدود کر دیا تھا، اور اسی محدود دنیا میں شہزادی کی ملاقات آگرہ کے رہائشی عزیر سے موبائل کے ذریعے سوشل میڈیا پر ہوئی۔ عزیر نے شہزادی سے محبت کا اظہار کیا اور اسے یقین دلایا کہ وہ اسے جلے ہوئے چہرے کے ساتھ قبول کرے گا۔ یہ الفاظ شہزادی کے لیے امید کی ایک کرن تھے۔ پھر سال 2021 آیا، اور عزیر نے شہزادی کو اس کے چہرے کے علاج کا خواب دکھا کر ابوظہبی جانے کے لیے راضی کر لیا۔ شہزادی تقریباً 90,000 روپے اور کچھ زیورات لے کر ابوظہبی پہنچ گئی، جہاں عزیر نے اسے اپنے رشتہ دار کے گھر بھیج دیا۔یہاں اس کی ملاقات نازیہ سے ہوئی، جو ابوظہبی کی النہیان یونیورسٹی میں پروفیسر تھیں۔ جیسے ہی شہزادی اس گھر میں پہنچی، اسے عزیر کی حقیقت اور اس کی بے وفائی کا پہلا احساس ہوا۔ وہ جس خواب کے سہارے یہاں آئی تھی، وہ بکھرنے لگا تھا۔
دراصل، نازیہ نے حال ہی میں ایک بچے کو جنم دیا تھا اور اسے اپنے گھر میں ایک نوکرانی کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نازیہ نے آگرہ میں رہنے والے عزیر سے بات کی اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے میں شہزادی کو اپنے گھر بھیجنے کا انتظام کر لیا۔ شہزادی پڑھی لکھی تھی اور چند ہی دنوں میں اسے حقیقت کا اندازہ ہو گیا۔
اپنے خواب کو زندہ رکھنے کے لیے وہ خود مختار ہونا چاہتی تھی تاکہ پیسہ کما کر اپنی پلاسٹک سرجری کروا سکے۔ اس نے کئی بار نازیہ سے باہر کام کرنے کی اجازت مانگی، لیکن نازیہ اسے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اتنی سستی اور بے حد محنتی ملازمہ کو کھونا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔
شہزادی پر ابوظہبی میں ایک بھارتی خاندان کے چار ماہ کے بچے کو قتل کرنے کا الزام تھا
شہزادی کے مقدمے کی سماعت پہلے ابوظہبی کی نچلی عدالت میں ہوئی، جہاں اسے مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں، اعلیٰ ترین عدالت نے بھی نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ شہزادی کو ابوظہبی کی الوتبہ جیل میں قید کر دیا گیا۔
ایک دن، اسی جیل سے اس نے اپنے گھر والوں کو فون کیا اور انہیں اپنی پوری کہانی سنائی۔ یہ پہلا موقع تھا جب اہلِ خانہ کو معلوم ہوا کہ 20 ستمبر 2024 کے بعد کسی بھی وقت اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یہ خبر ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی۔
یو اے ای کی عدالت نے غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اس معاملے میں دونوں عدالتوں نے کئی اہم باتوں کو نظر انداز کر دیا۔ جس طرح نازیہ اور اس کے شوہر کو شبہ تھا کہ ان کے بچے کو قتل کیا گیا ہے، اسپتال حکام کے اصرار کے باوجود پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کیا گیا؟ نازیہ کو بچے کی موت کے 54 دن بعد کیسے پتہ چلا کہ اس کا بچہ کیسے مر گیا؟ اگر عدالت چاہتی تو آسانی سے معلوم کر سکتی تھی کہ بچے کی موت کی اصل وجہ کیا ہے۔ کیونکہ بچے کی نعش ابوظہبی میں ہی دفن کی گئی تھی۔ نعش کو قبر سے نکال کر اور پوسٹ مارٹم کر کے موت کی وجہ کا ابھی بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہی نہیں بیچاری شہزادی کو وہاں اپنا مقدمہ چلانے کے لیے مناسب وکیل بھی نہیں ملا۔
شہزادی کے اہل خانہ شروع سے کہہ رہے تھے کہ شہزادی بے قصور ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ شہزادی کے خاندان نے شہزادی کو پھنسانے کے لیے اتر پردیش کے ایک لڑکے کے خلاف پہلے ہی باقاعدہ مقدمہ درج کرایا ہے۔ تاہم دوسری جانب ابوظہبی میں مقیم بھارتی خاندان نازیہ اور فیض جس کے چار ماہ کے بچے کو قتل کر دیا گیا، کا کہنا ہے کہ شہزادی کو انٹرویو اور مشاہرہ بات کرنے بعد ہی دبئی بلایا گیا۔ باقاعدہ شہزادی نے پہلے پولیس اور پھر ابوظہبی کی عدالت میں اپنے جرم کا باقاعدہ اعتراف کر لیا ہے۔شہزادی نے کہا کہ غصے میں اس نے بچے کو ناک اور منہ پر ہاتھ رکھ کر قتل کر دیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے اکلوتے بچے کی موت کے صدمے سے پورا خاندان ابھی تک غم سے نڈھال ہے۔ نازیہ بھی اسی وجہ سے دوبارہ ماں نہیں بن پا رہی ہے۔
شہزادی کی میت بھارت نہیں آئے گی، یو اے ای میں آخری رسومات کیسے ادا کی جائیں گی
والد شبیر خان نے بتایا کہ شہزادی نے آخری بار 14 فروری کی نصف شب 12 بجے فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے الگ کمرے میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ میری آخری کال ہے۔شہزادی کے والد نے بتایا کہ نماز جنازہ 5 مارچ کو دبئی میں ادا کی جائے گی۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 28 فروری 2025 کو ہندوستانی سفارت خانے کو باضابطہ طور پر مطلع کیا کہ شہزادی خان کی سزا پر 15 فروری 2025 کو عمل درآمد کیا گیا تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے 28 فروری کو ہندوستانی سفارت خانے کو مطلع کیا تھا کہ شہزادی کی سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہندوستانی سفارت خانے نے اس کے اہل خانہ کو اس کی اطلاع دی۔ ہندوستانی سفارتخانے نے شہزادی کی سزا کو ملتوی کرنے اور اسے معافی دلانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن سزا کا اطلاق متحدہ عرب امارات کی حکومت کے قوانین کے مطابق کیا گیا۔
عدالتی کارروائی میں کئی سوالیہ نشان
ابوظہبی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی اور شہزادی کو قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی گئی۔ لیکن اس کیس میں کئی سوالات جواب طلب رہے:
- اگر نازیہ کو شبہ تھا کہ بچہ قتل ہوا ہے تو پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا گیا؟
- 54 دن بعد اچانک نازیہ کو قتل کا احساس کیسے ہوا؟
- کیا دباؤ میں آ کر شہزادی نے جرم قبول کیا؟
- کیا اسے مناسب قانونی مدد فراہم کی گئی؟
خاندان کی بے بسی اور سزائے موت
شہزادی کے اہل خانہ مسلسل اس کے بے گناہ ہونے کی دہائی دیتے رہے، لیکن کوئی سنوائی نہ ہوئی۔ 14 فروری 2025 کو شہزادی نے اپنے والد شبیر خان کو آخری کال کی اور بتایا کہ اسے الگ کمرے میں رکھا گیا ہے اور یہ اس کی آخری بات چیت ہو سکتی ہے۔
15 فروری کو سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا، اور 28 فروری کو بھارتی سفارت خانے کو اس کی اطلاع دی گئی۔ اس کی نماز جنازہ 5 مارچ کو دبئی میں ادا کی جائے گی۔
یہ کیس کئی سوالات کو جنم دیتا ہے کہ کیا واقعی شہزادی مجرم تھی یا وہ ایک بڑی سازش کا شکار بنی؟ عدالت نے انصاف کیا یا ایک بے گناہ کی زندگی چھین لی؟
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ جوائین کرنے کے لئے لنک کلک کریں
https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso



