قومی خبریں

ہندوستان کے پہلے ٹرانس جینڈر جج نے جنس ثالث کیلئے ریزرویشن کیلئے دیا زور

ان کی کمیونٹی کو بھی ملک میں مناسب تعداد میں شیلٹر ہومز کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں ایک اسکیم شروع کرنی چاہیے

اندور ،17دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہندوستان کی پہلی ٹرانس جینڈر جج جوئیتا مونڈل نے اپنی کمیونٹی کے افراد کے لیے سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس فورس اور ریلوے جیسے شعبہ میں ان کا داخلہ معاشرے کا ان کے تئیں نظریہ بدلے گا اور زندگی میں ان کی ترقی میں مدد کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمیونٹی کو بھی ملک میں مناسب تعداد میں شیلٹر ہومز کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں ایک اسکیم شروع کرنی چاہیے۔سرکاری ملازمتوں میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو ریزرویشن دینا بہت ضروری ہے۔

اگر میرے پاس نوکری نہیں ہے تو مجھے کون کھلائے گا؟انہوں نے جمعہ کو یہاں ایک ثقافتی اور ادبی میلے، ’’لٹ چوک‘‘ میں شرکت کے بعد صحافیوں کو یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریزرویشن کی وجہ سے، خواجہ سرا پولیس فورس اور ریلوے میں شامل ہوتے ہیں، تو اس سے نہ صرف کمیونٹی کے افراد کو زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد ملے گی، بلکہ معاشرے کا ان کے تئیں نظریہ بدل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکام کو اپنی کمیونٹی کے ارکان اور انہیں درپیش مسائل کے تئیں زیادہ حساس ہونا چاہیے۔جوئیتا منڈل کو 2017 میں مغربی بنگال میں اسلام پور کی لوک عدالت میں جج مقرر کیا گیا تھا، وہ ملک میں اس طرح کے عہدے پر فائز ہونے والی اپنی برادری کی پہلی فرد بن گئیں۔ 2018 کے اوائل میں، ٹرانسجینڈر کارکن ودیا کامبلے کو مہاراشٹر کے ناگپور میں لوک عدالت میں رکن جج مقرر کیا گیا تھا۔ اسی سال کے آخر میں، ملک کو تیسری ٹرانس جینڈر جج، سواتی بیدھن باروہ، جو گوہاٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔پچھلے ہفتے ایک تاریخی فیصلے میں مہاراشٹر حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا کہ جنس ثالث کے افراد پولیس کانسٹیبل کے عہدے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور یہ فروری 2023 تک ان کے جسمانی ٹیسٹ کے معیارات طے کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button