ایک ماہ بعد ملبے تلے سے زندہ نکالی گئی بچی کی تصویر کی حقیقت سامنے آگئی
اس بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے
غزہ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ہفتوں سے مسلسل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں منہدم مکانات کے ملبے تلے زندگی کی جھلک تلاش کرنے کے لیے کم سے کم ممکنہ ذرائع کے ساتھ کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک ایسی تصویر کو پھیلایا گیا جس کے پبلشرز نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک بچی کی تھی۔ یہ وہ بچی تھی جسے ایک ماہ بعد ملبے تلے سے زندہ نکال لیا گیا تھا۔اس تصویر کو “ایکس” پلیٹ فارم، انسٹاگرام اور فیس بک پر سیکڑوں کمنٹس اور شیئرز ملے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے جس کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ تصویر ایک چھوٹی بچی کی ہے جو جنگ کے آغاز میں پیدا ہوئی تھی اور اسے ملبے کے نیچے سے تین گھنٹے بعد ہی نکال لیا گیا اور اس کی زندگی بچ گئی تھی۔
The miracle that came after 37 days. Baby born in the first days of the war was rescued alive from the rubble of the house bombed by Israel pic.twitter.com/pDpQ4bInGi
— Gaza Notifications (@gazanotice) November 27, 2023
فلسطینی شہری دفاع کے ایک رکن نوح الشغنوبی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر انکشاف کیا کہ امدادی کارکن تین گھنٹے کے بعد اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اس کے خاندان کے گھر کے ملبے تلے سے بچی کو زندہ نکالنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اکاؤنٹ کے مالک نے اس کی بازیابی کے لمحے کی ویڈیو بھی پوسٹ کی۔نوح نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی فیکٹ چیکنگ سروس کو بتایا کہ لڑکی کو تیس دن نہیں بلکہ تین گھنٹے ملبے تلے رہنے کے بعد بچایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچی کی عمر ایک ماہ سے بھی کم تھی جب اسے ملبے کے نیچے سے نکالا گیا اور اس کے پڑوسیوں نے اسے بچانے کے بعد طبی عملے کو اطلاع دی کہ وہ جنگ شروع ہونے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔
View this post on Instagram
نوح نے وضاحت کی کہ وہ سول ڈیفنس کے پیرامیڈیک ہیں اور فوٹوگرافر نہیں۔ تاہم میں نے غزہ میں صحافیوں کی کمی کی روشنی میں تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنا شروع کیے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ بمباری کے دنوں میں انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کی وجہ سے میں نے ویڈیو اور تصویر شائع کرنے میں دیر کردی۔یاد رہے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے مطابق اس تصویر کی گردش غزہ میں ان 1,200 بچوں کے نقصان کی روشنی میں آیا ہے جن میں سے کچھ ممکنہ طور پر اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے ہیں۔



