سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

بے خوابی سے امراض قلب بڑھنے کا انکشاف

نیند کی کمی اور جسمانی پیچیدگیاں

 ایک تازہ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بے خوابی یا نیند نہ کرنے سے نہ صرف ذہنی دباؤ بلکہ امراضِ قلب کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کی کمی جسم میں بلڈ پریشر بڑھاتی ہے جو کہ دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

نیند کی کمی اور جسمانی پیچیدگیاں

اس سے قبل کی جانے والی کئی تحقیقات میں نیند کی کمی کو ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، وزن میں عدم توازن اور قوتِ مدافعت میں کمی جیسی مسائل سے جوڑا گیا تھا۔ اب تازہ ترین تجزیے میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی خرابی جسم میں انفلیمیشن (سوزش) کا باعث بنتی ہے، جو سنگین بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔


ماہرین کی آراء اور تجاویز

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں:

  • شراب اور سگریٹ نوشی ترک کریں

  • کافی اور چائے کا استعمال کم کریں

  • روزانہ ہلکی یا سخت ورزش کریں

  • سونے سے پہلے اسکرین ٹائم کم کریں

نیند کا مناسب دورانیہ

  • کم عمر اور بزرگ افراد: 8 سے 9 گھنٹے

  • ادھیڑ عمر افراد: 7 سے 8 گھنٹے

  • 60 سال یا اس سے زائد: 6 سے 7 گھنٹے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی رات نیند پوری نہ ہو تو اگلے دن اضافی نیند کرنے کی کوشش نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس کے بجائے، نیند کے معمولات کو تدریجی طریقے سے بہتر بنایا جائے، مثلاً روزانہ نیند کے دورانیے میں 15 سے 20 منٹ کا اضافہ۔


سونے میں مشکلات کی صورت میں کیا کریں؟

اگر کوئی شخص سونے سے قاصر ہے اور کئی گھنٹے بستر پر بے سود گزار رہا ہے، تو بہتر ہے کہ وہ کوئی خوشی دینے والا یا ذہن کو سکون دینے والا کام کرے جیسے کتاب پڑھنا، ہلکی موسیقی سننا یا مراقبہ۔


نیند ایک فطری ضرورت ہے اور اس کی کمی صرف ذہنی دباؤ ہی نہیں بلکہ دل، بلڈ پریشر اور دیگر اعضا کی صحت پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ نیند کے معمولات کو بہتر بنانے اور ایک متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے متعدد طبی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔


🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!

🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ

متعلقہ خبریں

Back to top button