ایک انسٹاگرام پوسٹ اور 9 ارب ڈالر کا نقصان,سابق روسی ارب پتی اولیگ ٹنکوف کا چونکا دینے والا دعویٰ
یوکرین جنگ کی کھلے عام مذمت پر کی گئی ایک انسٹاگرام پوسٹ نے ان کی دولت تقریباً ختم کر دی
لندن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ کسی کی زندگی بدل دے—یہ بات اکثر مبالغہ لگتی ہے، مگر سابق روسی ارب پتی اولیگ ٹنکوف کے مطابق یہی ان کے ساتھ ہوا۔ ٹنکوف کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کی کھلے عام مذمت پر کی گئی ایک انسٹاگرام پوسٹ نے ان کی دولت تقریباً ختم کر دی اور انہیں ٹنکوف بینک میں اپنا بڑا حصہ زبردستی فروخت کرنا پڑا۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹنکوف نے دعویٰ کیا کہ اپریل 2022 میں جنگ کو “پاگل پن” قرار دینے اور روسی فوج پر تنقید کے محض ایک دن بعد، بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کو کریملن سے منسلک اہلکاروں کی کال موصول ہوئی۔ ان کے مطابق، الٹی میٹم صاف تھا: یا تو اپنا حصہ بیچیں اور برانڈ سے نام ہٹا دیں، یا بینک کو قومیا لیا جائے گا۔
ٹنکوف کے بقول یہ عمل مذاکرات نہیں بلکہ دباؤ تھا۔ بالآخر ایک ہفتے کے اندر ان کے تقریباً 35 فیصد حصص ولادیمیر پوٹینن سے منسلک ایک کمپنی نے خرید لیے اور وہ بھی اصل مارکیٹ ویلیو کے صرف 3 فیصد پر۔ ٹنکوف کا کہنا ہے کہ اس سودے کے نتیجے میں انہیں لگ بھگ 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔انہوں نے کہا، “میں طئے کی گئی قیمت پر بات چیت نہیں کر سکتا تھا، میں ایک یرغمال کی طرح تھا۔”
حصص کی فروخت کے بعد ٹنکوف نے روس چھوڑ دیا اور بعد میں اپنی روسی شہریت بھی ترک کر دی۔ ان کا الزام ہے کہ دباؤ صرف مالی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ بینک کے برانڈ سے ان کا نام مٹانے اور ادارے کی ترقی میں ان کے کردار کو نظرانداز کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
فی الحال جلاوطنی میں مقیم ٹنکوف 2025 میں آہستہ آہستہ عوامی زندگی میں واپس آئے ہیں اور ایک نئی فنٹیک کمپنی کے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں، جسے ٹنکوف بینک کے سابق ایگزیکٹوز نے شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے اور ان کی کہانی اس کی ایک بڑی مثال ہے۔



