تلنگانہ کی خبریں

دعوت افطار پر 29 کروڑ کے خرچ کے بجائے 6000 نوجوانوں کوقرض بہترہوگا

فی کس 50 ہزار سے چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی، افطار اور رمضان گفٹ سیاسی حربہ
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ میں مسلم نوجوان خود روزگار اسکیم کے تحت اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض کی اجرائی کیلئے گزشتہ چار برسوں سے منتظر ہیں لیکن حکومت مساجد میں دعوت افطار اور رمضان گفٹ کی تقسیم کے ذریعہ مسلمانوں کو خوش کرنا چاہتی ہے۔ اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی بدقسمتی کہئے کہ حکومتوں کے پاس ان کیلئے صرف زبانی ہمدردی ہوتی ہے۔
عمل کا معاملہ آئے تو ہر کوئی دامن بچانے لگتا ہے ۔ مسلمانوں کے جلسوں میں حکومت کے وزراء کی جانب سے جو تقاریر کی جاتی ہے ، انہیں سننے کے بعد لوگ یقین کرلیتے ہیں کہ حکومت حقیقی معنوں میں ان کی ہمدرد اور غم خوار ہے۔ مسلمانوں کو زبانی ہمدردی سے زیادہ عملی طور پر تعاون کی ضرورت ہے۔
تلنگانہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے اظہار کے لئے سدھیر کمیٹی کی رپورٹ کافی ہے جس نے مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کے علاوہ انہیں معاشی طور پر مستحکم بنانے کیلئے خود روزگار اسکیمات اور قرض کی فراہمی کی سفارت کی تھی۔
کورونا وباء کے پیش نظر گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا اور اس مرتبہ بڑے پیمانہ پر تیاریاں جاری ہیں۔ ریاست کی 900 مساجد میں ملبوسات پر مبنی گفٹ پیاکٹس کی تقسیم اور دعوت افطار کے اہتمام کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔ حکومت کی جانب سے 29 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔
مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ افطار کے نام پر 29 کروڑ روپئے خرچ کرنے کے بجائے اگر 6 ہزار مسلم نوجوانوں کو فی کس 50 ہزار روپئے قرض فراہم کیا جائے تو وہ چھوٹے کاروبار بآسانی شروع کرسکتے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں سبسیڈی کی اجرائی کی اسکیم کئی برسوں سے ٹھپ ہے جس کیلئے تقریباً دو لاکھ درخواستیں زیر التواء ہیں۔
کارپوریشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسکیم کیلئے بجٹ جاری نہیں کیا۔ اس کے علاوہ درخواستوں کی یکسوئی کے طریقہ کار کا تعین ابھی باقی ہے۔ حکومت نے سبسیڈی اسکیم کے علاوہ تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو راست طور پر 50,000 روپئے بطور امداد جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک یہ اعلان اسکیم میں تبدیل نہیں ہوا۔
مسلمانوں کو رمضان میں ملبوسات اور افطار کے نام پر بریانی کھلانا سب کچھ نہیں اور عام مسلمان بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ دعوت افطار محض ایک سیاسی حربہ ہے۔ اگر حکومت کو واقعی مسلمانوں کی معاشی ترقی سے ہمدردی ہو تو اسے چاہئے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے فنڈس جاری کرے ۔
سرکاری دعوت افطار پر 29 کروڑ روپئے خرچ کرنے سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر یہی رقم 50 ہزار کے حساب سے بطور قرض یا امداد جاری کی جائے تو 6000 خاندان خود روزگار اسکیم کے تحت اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔
وقت آچکا ہے کہ حکومتیں زبانی ہمدردی اور تشہیری پروگراموں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دیں۔ واضح رہے کہ حکومت 119 اسمبلی حلقہ جات کی 900 مساجد میں ارکان اسمبلی کے ذریعہ رمضان گفٹ کی تقسیم کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ارکان اسمبلی اپنے قریبی افراد میں عام طورپر یہ گفٹ تقسیم کرتے ہیں اور حقیقی معنوں میں غریبوں تک نہیں پہنچ پاتے ۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button