سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ادارے جہاں اسناد تو دی جاتی ہیں مگر انسان نہیں بنایا جاتا

✍️محمد مصطفی علی سروری

نوجوت سنگھ پنجاب یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف انجینئرنگ سائنس میں سال سوم کا طالب علم تھا۔ پیر 27؍فروری 2023 دوپہر کے بارہ بجکر پندرہ منٹ کا وقت تھا جب پنجاب یونیورسٹی کے یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ کے باہر 20 طلباء کھڑے تھے، ان کے درمیان کسی موضوع پر گرما گرم بحث چل رہی تھی۔ اسی بحث و تکرار کے دوران کسی نے نوجوت سنگھ کو چاقو کے کئی وار کر کے زخمی کردیا۔

اخبار ٹریبیون کی 28؍ فروری 2023 کی رپورٹ کے مطابق زخمی نوجوت سنگھ کو راجندرا کے سرکاری دواحانہ لے جایا گیا۔ یونیورسٹی کے ایک اہلکار کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ متعدد وار کے سبب نوجوت سنگھ کے جسم سے خون کی بھاری مقدار خارج ہوگئی تھی جس کے سبب علاج کے دوران ہی نوجوت کی موت واقع ہوگئی۔ پنجاب یونیورسٹی کے افسر تعلقات عامہ دلجیت آمی کے حوالے سے بتلایا گیا کہ اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کے حوالے کردی گئی ہے اور پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ لڑائی کے اس واقعہ میں ایک اور طالب علم کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ لیکن بتلایا جاتا ہے کہ دوسرے طالب علم کے زخموں کی نوعیت معمولی ہے۔ (بشکریہ اخبار دی ٹریبیون، چندی گڑھ)

قارئین کرام ہمارے تعلیمی اداروں کے حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مندرجہ بالا خبر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حالات کسی ایک کیمپس، کالج اور یونیورسٹی تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ کم و بیش ملک بھر میں ایسی ہی صورت حال ہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 28؍ فروری 2023ء کو وارانسی سے اطلاع دی ہے کہ بنارس ہندو یونیورسٹی نے ایک غیر ملکی طالب علم کو ایم اے فلاسفی اینڈ ریلیجین ڈپارٹمننٹ سے معطل کردیا ہے۔

قارئین تفصیلات کے مطابق ماریشس سے تعلق رکھنے والے طالب علم پرکاش شرما کو مقامی پولیس نے قبل ازیں گرفتار کرلیا تھا۔ پرکاش شرما کے متعلق کالج کی ایک خاتون ٹیچر نے ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے باضابطہ طور پر یونیورسٹی کی پراکٹورل ٹیم کے ہاں شکایت درج کروائی تھی جس میں بتلایا گیا کہ پرکاش نامی غیر ملکی طالب علم نہ صرف خاتون ٹیچر کو بدنگاہی کا نشانہ بنا رہا تھا بلکہ اپنی خاتون استاد کو فحش پیغامات ارسال کرتے ہوئے اور ان کے کمرے میں گھس کر ہنگامہ کرتے ہوئے بدنام کرنے کی بھی کوشش کی۔

خاتون ٹیچر کی اس شکایت کو بنارس ہندو یونیورسٹی نے مقامی پولیس کو فارورڈ کرتے ہوئے طالب علم کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پرکاش کی پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سدھاکر کے جین نے اس غیر ملکی طالب علم کو یونیورسٹی سے معطل کرنے اور اس کو دی جانے والی ساری مراعات ختم کرنے کا اعلان کیا۔ (بحوالہ اخبار ٹائمز آف انڈیا)

درشن سولنکی کا تعلق گجرات کے شہر احمد آباد سے تھا۔ اس کے ماں باپ پلمبر اور گھریلو ملازمہ کا کام کرتے تھے۔ درشن کا تعلق دلت طبقہ سے تھا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بارے میں اس کے لیے بہت ساری مشکلات تھیں لیکن درشن نے اپنے تعلیمی راستے کی ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا حوصلہ دکھایا اور درشن کو انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) ممبئی میں داخلہ مل گیا۔ جہاں پر اس نے کمیکل انجینئرنگ میں ڈگری کی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ لیکن ایک سال سے بھی کم عرصے میں درشن کے ماں باپ کے خواب بری طرح بکھرگئے جب 12؍ فروری 2023 کو 18 سالہ دلت طالب علم درشن کی خون میں لت پت نعش کیمپس میں دستیاب ہوئی۔ مبینہ طور پر درشن نے کالج کی ساتویں منزل سے کود کر خودکشی کرلی تھی۔ پولیس نے مشتبہ موت کا کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

درشن سولنکی کے گھر والوں اور امبیڈکر پیری بار پھولے اسٹڈی سرکل (APPSC) کے مطابق سولنکی کو مبینہ طور پر کیمپس میں دلت ہونے کے سبب ہراساں کیا جارہا تھا۔ جس کے سبب اس نے یہ سنگین اقدام اٹھایا اور خودکشی کرلی۔ (بحوالہ اخبار دکن ہیرالڈ۔ 25؍ فروری ۔ مرتنجوئے بوس کی رپورٹ)

ڈاکٹر ومکتا شرما کی عمر 54 برس ہے۔ وہ مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک فارمیسی کالج کی پرنسپل تھیں۔ 20؍ فروری 2023ء کو ڈاکٹر شرما حسب معمول اپنے کالج میں خدمات انجام دے رہی تھیں کہ اچانک کالج کا ایک سابق طالب علم 24 سالہ اشوتوش شری واستو وہاں آتا ہے اور مبینہ طور پر ڈاکٹر شرما پر پٹرول چھڑک کر آگ لگادیتا ہے۔

بتلایا جاتا ہے کہ اشوتوش کا اپنی مارک شیٹ کو لے کر کالج کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا۔ کالج کی خاتون پرنسپل اس واقعہ میں 80 فیصد جھلس کر زخمی حالت میں دواخانہ کو لے جائی جاتی ہیں جہاں پر 5 دنوں تک موت و زندگی کی کشمکش کے بعد بالآخر وہ خاتون پرنسپل 25؍ فروری 2023 کو فوت ہوجاتی ہیں۔ پولیس نے فارمیسی کالج کے سابق طالب علم اشوتوش کو گرفتار کر کے پہلے تو اقدام قتل کی دفعہ کے تحت بک کرلیا تھا مگر بعد میں کالج کی پرنسپل کی موت کے بعد قتل کا مقدمہ بنادیا۔
(بحوالہ اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ۔ مطبوعہ 25؍ فروری 2023)

قارئین کرام ملک کے مختلف تعلیمی اداروں اور وہاں کے کیمپس میں ہر وہ برائی دیکھنے اور پڑھنے کو مل رہی ہے جو ہمارے تعلیمی اداروں کے باہر سماج میں پل رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ کاکتیہ میڈیکل کالج ، ورنگل سے سامنے آیا۔

اخبار تلنگانہ ٹوڈے کی 22؍ فروری 2023ء کی رپورٹ کے مطابق کاکتیہ میڈیکل کالج میں ایم ڈی انستھیشیاء کی ایک طالبہ 21؍ فروری کی صبح 6:30 کو بے ہوشی کی حالت میں ملی۔ ساتھی ڈاکٹرس نے پتہ لگتے ہی اس طالبہ کو قریبی دواخانہ منتقل کیا ۔ ابتداء میں ڈاکٹرس نے طالبہ کی کیفیت کو قلب پر حملے کے طور پر تشخیص کیا۔ بعد میں ایم ڈی کی اس طالبہ کے والدین نے اپنی لڑکی کی موجودہ کیفیت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے خود کشی کے اس واقعہ کے لیے کاکتیہ میڈیکل کالج کے ایم ڈی سیکنڈ ایئر کے طالب علم سیف کو ذمہ دار قرار دیا۔

اخبار تلنگانہ ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ایم جی ایم دواخانے کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وی چندرا شیکھر اور کاکتیہ میڈیکل کالج کے پرنسپل مدین داس کے حوالے سے بتلایا کہ خود کشی کو شش کرنے والی طالبہ نے دراصل اپنے مریضوں کی کیس شیٹ ہائوز سرجن ڈاکٹرس کو لکھنے کے لیے دی جس پر سینئر طلبہ نے اس طریقہ کار پر اعتراض کیا ۔ اس واقعہ کا نوٹ لیتے ہوئے میڈیکل کالج کے انتظامی کارروائی بھی کی لیکن اس کے بعد ڈاکٹر لڑکی کا مشتبہ حالت میں ملنا، مسئلے کو طول دینے کا سبب بنا۔ ورنگل کی اس میڈیکل طالبہ کو بہترین علاج کے لیے شہر حیدرآباد منتقل کیا گیا لیکن نمس دواخانے میں دوران علاج وہ جانبر نہ ہوسکی۔کاکتیہ میڈیکل کالج نے حالانکہ اپنی رپورٹ میں میں خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والی ڈاکٹر طالبہ اپنے امراض کے علاج کی کوشش میں پہلے بے ہوش پھر فوت ہوگئی۔

اخبار تلنگانہ ٹوڈے کی ہی اطلاع کے مطابق 22؍ فروری کو ایم جے ایم ہاسپٹل سے میڈیکل سکنڈ ایئر کے طالب علم کو جو کہ مسلمان ہے ایک طالبہ کی خودکشی کے الزام میں ایس سی، ایس ٹی ایکٹ اور مخالف ریاگنگ ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔

24؍ فروری 2023ء کی رات حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں طلباء کے دو گروپس کے درمیان جھڑپیں ہوجاتی ہیں۔ پولیس کے مطابق طلباء کے دو گروپس کے درمیان یہ جھڑپ یونیورسٹی میں ہو رہے اسٹوڈنٹ الیکشن کو لے کر ہوئی ہیں۔ تقریباً 4 برس کے وقفہ کے بعد حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس کے انتخابات ہو رہے ہیں جس کے دوران دائیں بازو کی طلباء تنظیم اے بی وی پی اور ایس ایف آئی کے کارکنوں کے درمیان پہلے تنائو کی کیفیت اور پھر جھڑپ کا واقعہ پیش آیا۔اس واقعہ میں چند طلبہ زخمی بھی ہوئے۔
اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں تقریباً 5300 طلبہ، انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے 27؍ فروری کو یہ Women Engineering Student Dies by Suicide in Telangana کی سرخی کے تحت خبر دی کہ ورنگل ہی میں انجینئرنگ میں زیر تعلیم ایک لڑکی نے اس وقت خود کشی کرلی جب اس کے ایک سابقہ دوست نے اس کو نجی تصاویر کو سوشیل میڈیا پر دوستوں کے ساتھ شیئر کردیا۔ لڑکی جب اپنے سابقہ دوست کو چھوڑ کر کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ دوستی کر رہی تھی تو اس بات پر ناراض پہلے دوست نے لڑکی کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا کہ اس نے مبینہ طور پر خود کشی کی کوشش کی۔ پولیس لڑکی کے سابقہ اور موجودہ دونوں دوستوں کو حراست میں لے کر تحقیقات کر رہے ہیں۔

قارئین کرام ان ساری مثالوں اور واقعات کی تفصیلات سے اس بات کا پتہ چلتا یہ کہ مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل طاقتیں کس قدر مکروہ چہرہ رکھتی ہیں۔مسائل تو ہر کالج، یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے میں ہیں لیکن کسی بھی شعبہ، کسی بھی میدان میں کارروائی کا مطالبہ اسی وقت کیا جاتا ہے جب خاطی مسلمان ہوں یا مسلمان کے خاطی ہونے کا شبے میں سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کو ہندوستان میں اپنے ملی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اور دستوری دائرے کار میں رہتے ہوئے بین مذہبی، بین لسانی اور بین طبقاتی بھائی چارہ کو یقینی بنانے کے لیے دیگر برادران وطن کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ساتھ ہی ساتھ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سماجی برائیوں اور معاشرتی انصاف کا حصول بھی سارے ہندوستانیوں کی ضرورت ہے۔ کسی ایک مذہب فرقہ یا علاقے کے حوالے سے دستور کسی طرح کا کوئی امتیاز نہیں کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں کتنے ایسے دانشور ہیں جو اپنے بچوں کو سماجی علوم پڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہم اچھے ڈاکٹرز اور اچھے انجینئرس بھی نہیں بناسکتے ہیں تاوقتیکہ ہم اچھے مسلمان اور اچھے ہندوستانی شہری نہ بن جائیں۔

تعلیمی ادارے تو اسناد سے نوازتے ہیں اور موجودہ حالات میں والدین اور سرپرستوں کی دوہری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو انسان بنائیں۔ مسلمان جب اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنائیں گے تو وہ خود بہ خود انسانیت کے علمبردار بن جائیں گے۔ (انشاء اللہ)

mustafa-ali-sarwari
کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button