اہانت رسول صلی ا للہ علیہ وسلم سے متعلق عرضی سپریم کو ر ٹ نے مرکزی سرکار و دیگر سے کارروئی کی رپورٹ طلب کی
نئی دہلی9مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے سوموار کو اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق عرضی ( (1265/2021پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی سرکارو دیگر کو نوٹس جاری کیا ہے کہ ایسی انتہائی افسوسناک وشرمناک حرکتوں کے خلاف اب تک کیا اقدامات کیے گیے، وہ اس سلسلے میں عدالت میں جلد جواب داخل کریں۔سپریم کورٹ میں آج نفرتی واقعات ، جہانگیر پوری انہدامی کارروائی اور میڈیا و اوٹی ٹی کے ذریعہ نفرت پھیلانے جیسی عرضیوں پر سماعت ہوئی۔
اس کے علاوہ خاص طور سے اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عرضی جسٹس اے ایم کھانویلکر اورجسٹس اے ایس اوکا کی بنچ کے سامنے زیر سماعت تھی۔ ایڈوکیٹ ایم آرشمشاد عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزارنے اپنی عرضی میں اہانت رسول ﷺکے پے درپے ہورہے واقعات کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت عظمی سے خصوصی ہدایت نامہ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ پرست عناصر اور گروہوں نے مسلمانوں کے عقائد اور اس کی عظیم شخصیت ، سرورکائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دشنام طرازی کا نشانہ بنا رکھا ہے۔
یہ واقعات ملک کے آئین اور اس میں موجود سیکولر کردار پر بھی حملہ ہے، نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہے ، لیکن حرفِ افسو س یہ ہے کہ موجودہ سرکاروں نے ان واقعات کے سلسلے میں انتہائی متعصبانہ کردار ادا کیا ہے اور اس کے مرتکبین سے نرمی برتی ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے عدالت سے رجوع سے قبل کافی انتظار کیا کہ سرکاریں ازخود کارروائی کریں گی اور مجرموں کو درس عبر ت دیں گی، لیکن اسٹیٹ مشنری پوری طرح سے آئینی ذمہ داری سے غافل اور ناکام ہے ۔
یہ مشنریاں جمعیۃ علماء کے خطوط اور وفود کے ذریعہ متوجہ کرائے جانے کے باوجود بھی ٹس سے مس نہ ہوئیں ۔ہم نے پولس تھانے جاکر شکایت درج کرائی ، لیکن بعض معاملوں میں ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی ، ایسے حالات میں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ معزز عدالت ایسے مجرموں کے خلاف وقت مقررہ میں کارروائی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کرے۔
جمعیۃ علماء ہند ان حقائق کا برملا اظہار کرتی ہے کہ نفرتی واقعات بالخصوص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی وجہ سے ملک کی تکثیریت اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بقائے باہمی کی وطنی خصوصیت کو شدید خطرہ لاحق ہے جس کی حفاظت سبھی ہندستانیوں بالخصوص سرکاری مشنریوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں حال میں وقوع پذیر کل ایسے پندرہ مواقع کی نشاندہی بھی کی ہے جب اہانت رسول کے واقعات پیش آئے ، ان میں خاص طور سے تری پورہ میں ایک جلوس کے ذریعہ شان محمدؒ میں دشنام طرازی بہت ہی دل آزاری کی باعث بنی ہے۔جمعیۃ علماء ہند نے اس عرضی میں حکومت ہند، تری پورہ حکومت اور دہلی پولس کو جواب دہ بنایا ہے ۔
اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی سماج اپنے مذہبی پیشوائوں کی توہین کرکے مہذب نہیں رہ سکتا ۔بالخصوص پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ساری دنیا کے انسانوں کے لیے سراپار حمت ہے ، اس لیے ایسے اعمال کے مرتکبین کو عبرت ناک سزا دی جائے تا کہ وہ کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب کے پیشوا کی توہین کی ہمت نہ جٹا سکے ۔



