رسوئی,دلچسپ کھانے جو کبھی خراب نہیں ہوتے-عرشی دلدارؔ بنگلور
فریج کی دریافت 1834 میں لندن میں رہنے والے جیکب پرکینس نے کی
فریج کی دریافت 1834 میں لندن میں رہنے والے جیکب پرکینس نے کی اور دنیا کا پہلا ریفریجریشن سسٹم دریافت کیا جو آج کے جدید ریفریجریٹرز کی نسل کا پہلا قدم تھا، جیکب پرکینس نے ریجریجریشن سسٹم اس لئے دریافت کیا تاکہ کھانے کو ٹھنڈا رکھا جاسکے تاکہ وہ دیر تک محفوظ رہ سکے اور خراب نہ ہو۔
جیکب کی دریافت آج ساری انسانیت کی خدمت کر رہی ہے مگر یہ بھی کھانے کو زیادہ عرصہ محفوظ نہیں رکھ پاتی اور اس میں بھی کھانا خراب ہوہی جاتا ہے لیکن آج اس آرٹیکل میں ہم 10 ایسے کھانوں کا ذکر کریں گے جو بہت لمبے عرصے تک یا اگر یہ کہا جائے کبھی خراب نہیں ہوتے تو غلط نہیں ہوگا۔
سفید چاول: سفید چاول کو اگر آکسیجن فری ڈبے میں 40 ڈگری درجہ حرارت سے کم پرمحفوظ کر دیا جائے تو یہ 30 سال سے بھی زیادہ عرصہ تک محفوظ رکھے جاسکتے ہیں اور ان کی غذائی صلاحیت اتنے لمبے عرصے بعد بھی برقرار رہتی ہے، براؤن چاول اتنا لمبا عرصہ نہیں گزار سکتے اور اپنی اندر موجود آئل کی وجہ سے 6 مہینے میں ایکسپائر ہوجاتے ہیں۔
سرکہ: سرکہ انسان کی صحت کے لئے بیشمار خوبیاں رکھتا ہے اور یہ سرکہ کی واحد صلاحیت نہیں ہے بلکہ یہ کئی اور خوبیوں کا بھی مالک ہے جس میں سے ایک خوبی اسکی یہ ہے کہ یہ خراب نہیں ہوتا، ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کا سرکہ، سفید سرکہ، بلاسمک سرکہ، رس بیری کا سرکہ، رائس وائن سرکہ، ریڈ وائن سرکہ ایسے سرکے ہیں جن کی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہوتی اگر انہیں ائیر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھا جاے تو۔
شہد: قدرت نے شہد کی مکھی کو ایک ایسے کیمیا سے نوازا ہے جس پر ماڈرن سائنس نے اب تک سب سے زیادہ ریسرچ کی ہے اورخاموش ہے کیونکہ کچھ نہیں جانتی، شہد کو دنیا کا وہ واحد کھانا سمجھا جاتا ہے جو حقیقت میں کبھی خراب نہیں ہوتا اور اب تک شہد کا سب سے قدیم جار جو دریافت ہوا ہے اسکی عمر 5 ہزار پانچ سو سال پرانی ہے۔شہد میں شامل اجزا جہاں انتہائی ایسڈیک خوبیوں کے حامل ہوتے ہیں وہاں اس میں بہت ہی کم موئسچرازر شامل ہوتا ہے جس سے بیکٹریا شہد میں کبھی اپنی افزائش نہیں کرپاتا جس سے شہد خراب نہیں ہوتا، لیکن اگر شہد کو ائیر ٹائٹ جار میں نہ رکھا جائے تو یہ ہوا سے نمی اپنے اندر جذب کرنا شروع کر دیتا ہے اور پھر یہ نمی شہد کی ایکسپائری کا باعث بن جاتی ہے۔
نمک: جو نمک آج ہم اپنے گھروں میں کھانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں اگر آپ اس کی تحقیق کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ بھی کئی ہزار سال پرانا ہے، پڑوسی ملک پاکستان میں کھیوڑا سالٹ مائن ، دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے اور کہا جاتا ہے اسے سکندر اعظم کی فوج کے گھوڑوں نے دریافت کیا تھا۔نمک نہ صرف خود خراب نہیں ہوتا بلکہ اسے صدیوں سے چیزوں کو لمبے عرصے کے لئے محفوظ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور مصر میں اس کے استعمال سے جسم کو حنوط کیا جاتا تھا کیونکہ یہ نمی کو جذب کر لیتا ہے۔



