بین المذاہب ہم آہنگی: کیرالا کے مندر میں مسلمانوں کے لیے افطار کا خصوصی انتظام
مندر میں افطار کا اہتمام: مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال
کاسرگوڈ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مندر کمیٹی پھل اور دیگر نذرانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ شروع میں یہ سونچا گیا تھا کہ پیر ومکلیاتم (مندر کے تہوار) کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے گا لیکن جب مندر کے حکام نے اعلان کیا کہ پرساد افطار کے لیے آنے والے مسلمان بھائیوں کے لیے ہوگا تو یہ پوری کمیونٹی کے لیے اتحاد کا لمحہ بن گیا۔ بعد میں روزہ دار آنے لگے۔ مندر کے حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہیں بٹھایا اور ایک دوسرے کی خیریت پوچھتے ہوئے دوستانہ سلام کا تبادلہ کیا۔
اذان کی آواز شروع ہوتے ہی مندر کا صحن دعائیہ سکوت سے بھرگیا اور اسی لمحے افطار کے جشن کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی کو تقویت ملی۔ اگرچہ مساجد میں افطار کی تقریبات عام ہیں لیکن اس طرح کا واقعہ کسی مندر میں ہونا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے جہاں پیرومکلیاتم کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ افطار تقریب میں مختلف مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی۔
مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہوئے نیلیشورم، پالیکارو، منگلم کازکم اور تھرکری پور رام ولم کازکم جیسے مقامات پر افطار پروگرام منعقد کئے گئے۔ پروگرام کے دوران مندر کمیٹی کے اراکین نے روزہ داروں کے لیے تیار کردہ کھانے کی اشیاء مسجد کمیٹی کے حوالے کیں۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں |
مندر کمیٹی کی جانب سے 13 مساجد کو دعوت
مندر فیسٹیول آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر کے پی جے راجن نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر 13 مختلف مساجد میں گئے تاکہ مسلمانوں کو افطار میں مدعو کر سکیں۔ اس دوران مندر کمیٹی کے اراکین نے روزہ داروں کے لیے تیار کردہ کھانے کی اشیاء مسجد کمیٹی کے حوالے کیں۔
مندر میں منعقدہ اس افطار تقریب نے ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی اور محبت و بھائی چارے کی ایک بہترین مثال قائم کی، جسے سوشل میڈیا پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ منور علی شہاب نے تقریب کے بعد اپنے پیغام میں کہا:"یہ لمحہ کتنا خوبصورت تھا!”



