
نئی دہلی: (اردودنیا/ایجنسیاں)کوویڈ 19 پر حکومت کے قومی ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (NTAGI) کے ورکنگ گروپ کے سربراہ ، ڈاکٹر این کے اروڑہ نے کہاہے کہ بھارت کوویشیلیڈ ٹیکے کے وقفے کاجائزہ لے گااوراعدادو شمار کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔اروڑہ نے COVID-19 اور ویکسینیشن سے متعلق صورتحال کومتغیر قرار دیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مکمل حفاظتی ٹیکوں کے مقابلے میں جزوی حفاظتی ٹیکوں کی تاثیر کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔برطانیہ کے محکمہ صحت کی ایجنسی پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے اپریل کے آخری ہفتے میں اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ویکسین کی خوراک کے درمیان 12 ہفتوں کا وقفہ ہوتا ہے تو اس کی تاثیر 65 سے 88 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔
اروڑہ نے کہاہے کہ اسی وجہ سے وہاں ویکسین کی خوراک کے درمیان وقفہ 12 ہفتوں کا رکھا گیا ہے۔ ہم نے یہ بھی سوچا کہ یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے اور یہ کہ بنیادی سائنسی وجوہات ہیں کہ وقفہ بڑھایا جائے۔ا س سے ویکسین بہتر نتائج برآمد کرتی ہیں۔ لہٰذا ، 13 مئی کو فیصلہ کیا گیا تھا کہ ویکسین کی خوراک کے درمیان وقفہ کو 12 سے 16 ہفتوں تک بڑھایا جائے۔



