بین الاقوامی خبریں

ایران کے ہزاروں میزائلوں کا دباؤ، صرف چار دن میں امریکہ و اسرائیل کے مہنگے دفاعی نظام آزمائش میں آگئے

ایران۔امریکہ جنگ میں مہنگے دفاعی میزائل تیزی سے ختم ہونے کا خدشہ

دبئی 05 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب باقاعدہ جنگی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور صرف چار دن کے اندر ہی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی میزائل سسٹمز تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ پیشگی فضائی کارروائی کی جس میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری قیادت کو کمزور کرنا اور سیاسی دباؤ بڑھانا تھا، تاہم ابتدائی دنوں میں ایران نے بھرپور اور منظم جوابی حملے کر کے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جس کے باعث دفاعی نظام پر غیر معمولی دباؤ پیدا ہوگیا ہے۔

 سابق بھارتی فوجی افسر راجیو اگروال نے کہا ہے کہ اس جنگ میں ہتھیاروں کی قیمت بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق امریکی پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل کی قیمت تقریباً 10 لاکھ سے 30 لاکھ ڈالر فی میزائل تک ہوتی ہے، جبکہ ایرانی بیلسٹک میزائل کی لاگت اس کے مقابلے میں کہیں کم یعنی تقریباً 8 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔

اسی طرح جدید امریکی ایم کیو نائن ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالر تک ہے جبکہ ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرون محض 30 ہزار سے 50 ہزار ڈالر میں تیار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بڑے مالی فرق کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو طویل جنگ کی صورت میں اقتصادی اور عسکری دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے پہلے 24 گھنٹوں میں امریکی فوج کو تقریباً 779 ملین ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑا جبکہ تین دن کے اندر یہ لاگت بڑھ کر تقریباً 1.24 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کی تعداد تقریباً 600 سے 800 کے درمیان ہے۔ ایک آنے والے میزائل کو روکنے کے لیے عام طور پر چار سے چھ انٹرسیپٹر میزائل داغے جاتے ہیں اور اب تک تقریباً 150 سے 200 میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ چار سے سات دن کے اندر دفاعی میزائلوں کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ جاپان اور جنوبی کوریا سے اضافی پیٹریاٹ میزائل منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

دوسری جانب مختلف دفاعی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس 20 ہزار سے 50 ہزار تک مختلف اقسام کے میزائل موجود ہیں جبکہ ہزاروں ڈرون بھی اس کے ذخیرے میں شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ہتھیار زیرِ زمین محفوظ ٹھکانوں میں رکھے گئے ہیں جہاں تک فضائی حملوں کی رسائی مشکل سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کر کے امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام کو مصروف رکھا جائے تاکہ ان کے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل تیزی سے استعمال ہو جائیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو دونوں کے لیے سیاسی اعتبار سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ دونوں رہنما اندرونی سیاسی دباؤ اور انتخابی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم ایران کی حکمت عملی اور خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال نے اس تنازع کو توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے اور آنے والے دن اس جنگ کی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button