بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران:بے پردہ خواتین پر دہی انڈیلنے کے ملزمین کیخلاف وارنٹ گرفتاری جاری

ایران میں ایک شخص نے ایک دکان میں خریداری کے لیے آنے والی دوبے پردہ خواتین کے سروں پردہی انڈیل دیا

تہران،2اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایران میں ایک شخص نے ایک دکان میں خریداری کے لیے آنے والی دوبے پردہ خواتین کے سروں پردہی انڈیل دیا ہے۔ایرانی عدلیہ نے اس واقعہ کی ویڈیو منظرعام پرآنے والے بعد تین وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔عدلیہ کی میزان آن لائن نیوز ایجنسی نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایک وارنٹ گرفتاری حملہ آورشخص کے خلاف جاری کیا گیا ہے۔اس پرعملی طورپر توہین اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کا الزام عایدکیا گیا ہے جبکہ دو وارنٹ دونوں متاثرہ خواتین کوسر کے بال نہ ڈھانپنے پر جاری کیے گئے ہیں۔جمعہ کے روزسوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ شخص ایک دکان میں دو خواتین کے پاس آرہا ہے۔ْْ

ایسا لگتا ہے کہ وہ دہی کا پیالا پکڑنے اور اسے ان کے سروں پر ڈالنے سے پہلے کچھ سیکنڈ کے لیے ان کے ساتھ بحث کرتا ہے۔میزان آن لائن نے مزید بتایا کہ اس کے بعد اس شخص کا سامنا اسٹور کے مالک سے ہوتا ہے، جسے عدالتی حکام نے اپنے اسٹور میں حجاب نہ اوڑھنے والی خواتین کو داخلے کی اجازت دینے پر انتباہ جاری کیا ہے۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے تسلیم کیا ہے کہ اس شخص نے بال نہ ڈھانپنے پرخواتین پر حملہ کیا اور اس شخص کی کارروائی کوبرائی کو روکنے کا غیرروایتی طریقہ قراردیا ہے۔ یہ واقعہ ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیش آیا ہے لیکن اس کی تاریخ واضح نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں 1979 کے انقلاب کے فوراً بعد خواتین کے لیے حجاب پہننا لازمی قراردیا گیا تھا لیکن 22 سالہ مہساامینی کی گذشتہ سال ستمبر میں پولیس کے زیرحراست موت کے بعد بہت سی خواتین بغیر حجاب کے عوامی مقامات پرنظرآ رہی ہیں۔

ایرانی کردخاتون مہساامینی 16 ستمبر2022 کو تہران میں اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کی مبیّنہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا تھا اورتین روز پولیس کے زیرحراست ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ان کی موت کے بعد ملک بھر میں کئی ماہ تک حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے جو بالآخر حکومت کی جانب سے مہلک کریک ڈاؤن کی وجہ سے ختم ہو گئے۔

حجاب نہ لینے پر سخت کاروائی کی جائے گی : ایرانی چیف جسٹس

ایران کے چیف جسٹس نے عوامی مقامات پر حجاب نہ کرنے والی خواتین کیخلاف ’بے رحمانہ‘ قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے ایسے وقت پر دھمکی آمیز بیان دیا ہے جب جمعرات کو وزارت داخلہ بھی لازمی حجاب پہننے کی تائید کر چکی ہے۔ایرانی میڈیا پر چلنے والے بیان کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ حجاب نہ کرنا ہماری اقدار سے دشمنی کے برابر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو اس قسم کے غیرمعمولی اقدامات کرتے ہیں انہیں سزا دی جائے گی اور ان کے خلاف بغیر رحم قانونی کارروائی کریں گے۔تاہم چیف جسٹس نے واضح نہیں کیا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین کے لیے کیا سزا مقرر کی گئی ہے۔چیف جسٹس غلام حسین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فرض ہے کہ عوامی مقامات پر مذہبی قوانین سے متعلق ہونے والی خلاف ورزیاں عدالتی حکام کو رپورٹ کریں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 13 ستمبر کو ایران کی پولیس نے 22 سالہ کرد ایرانی خاتون مہسا امینی کو حجاب درست طریقے سے نہ اوڑھنے پر حراست میں لیا تھا۔ پولیس حراست کے دوران مہسا امینی کے کومے میں چلے جانے کے بعد 26 ستمبر کو ان کی ہلاکت کی خبر آئی تھی۔ مہسا امینی کی درد ناک موت کے واقعے کے بعد سے ایران کے مختلف شہرہوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور خواتین کے حقوق کی تحریک نے جنم لیا۔ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی قانون کے تحت حجاب کرنا خواتین پر فرض ہے، جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف جرمانے ادا کرنا پڑتا ہے بلکہ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

 جمعرات کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حجاب ایرانی تہذیب کی بنیادوں میں سے ایک ہے اور جمہوریہ اسلامی کا ایک عملی اصول ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے پر نہ تو پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہی خلاف ورزی برداشت کریں گے۔وزارت داخلہ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر حجاب والی خواتین کی مخالفت کرتے ہوئے ان کا سامنا کریں۔ اس سے پہلے بھی حکومتی سطح پر اس قسم کے احکات جاری کیے گئے ہیں جن سے سخت گیر خیالات رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور انہوں نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے خوف کے خواتین پر حملے کیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button