بین الاقوامی خبریں

ایران میزائل کی پیدوار بڑھانے لگا، سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی رپورٹ

یہ دونوں گروپ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

تہران ، 9جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ایک رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران میزائل کی پیدوار بڑھا رہا ہے۔ سیٹ لائٹ تصاویر میں دو بڑی ایرانی بیلسٹک میزائل تنصیبات میں بڑی توسیع کو دکھایا گیا ہے۔ دو امریکی محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ ان توسیعوں کا مقصد میزائل کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔ اس کی تصدیق تین سینئر ایرانی حکام نے بھی کی ہے۔ دونوں تنصیبات کی توسیع اکتوبر 2022 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد ہوئی ہے جس کے تحت ایران نے روس کو میزائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ روس ان میزائلوں کو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے حاصل کرنا چاہتا تھا۔امریکی حکام نے کہا کہ ایران یمن میں حوثیوں اور لبنانی حزب اللہ گروپ کو بھی میزائل فراہم کر رہا ہے۔

یہ دونوں گروپ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ کمرشل سیٹ لائٹ کمپنی پلانیٹ لیبز کی جانب سے مارچ میں مدرس ملٹری گیریژن اور خوجیر میزائل پروڈکشن کمپلیکس کی اپریل میں لی گئی تصاویر سے تہران کے قریب دو مقامات پر 30 سے زیادہ نئی عمارتوں کا انکشاف ہوا ہے۔رائٹرز کی طرف سے دیکھی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ بہت سی عمارتیں مٹی کے بڑے بڑے برموں سے گھری ہوئی تھیں۔ مونٹیری میں مڈل بیری انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے جیفری لیوس نے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں میزائل کی تیاری سے منسلک ہیں۔مارچ میں مدرس ملٹری گیریژن کی کمرشل سیٹ لائٹ کمپنی پلانیٹ لیبز اور اپریل میں خوجیر میزائل پروڈکشن کمپلیکس کی بنائی گئی تصاویر کی بنیاد پر تہران کے قریب دو مقامات پر 30 سے زائد نئی عمارتیں دیکھی گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی اسلحہ خانہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا ہے اور اس کا تخمینہ تین ہزار سے زیادہ میزائلوں کا ہے جن میں روایتی اور جوہری وار ہیڈز لے جانے کے لیے بنائے گئے ماڈل بھی شامل ہیں۔تین ایرانی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ کہ روایتی بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ’’مدرس‘‘ گیریژن اور ’’خوجیر‘‘ کمپلیکس میں توسیع کی گئی ہے۔ایک دوسرے ایرانی اہلکار نے کہا کہ کچھ نئی عمارتیں ڈرون کی پیداوار کو دوگنا کرنے کی سہولت بھی فراہم کریں گی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ ڈرون اور میزائل کے اجزاء روس کو فروخت کیے جائیں گے اور حوثیوں کو ڈرون اور حزب اللہ کو میزائل فراہم کیے جائیں گے۔

رائٹرز آزادانہ طور پر ایرانی حکام کے بیانات کی تصدیق کرنے سے قاصر رہا۔اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے دونوں تنصیبات کی توسیع پر تبصرہ کرنے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اس سے قبل تہران نے روس اور حوثیوں کو ڈرون اور میزائل فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ حزب اللہ کے میڈیا آفس نے بھی تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button