ضرورت پڑنے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے ماسکو منتقل ہونے کا امکان
ایران میں بدترین حالات کا خدشہ، سپریم لیڈر کے متبادل منصوبے سے متعلق اہم انکشاف
تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران میں حکومت مخالف احتجاج کی شدت، بدترین معاشی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے درمیان سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای سے متعلق ایک سنجیدہ اور غیر معمولی انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے خطے کی سیاسی فضا کو مزید ہلچل میں مبتلا کر دیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ نے خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بدترین حالات کے پیشِ نظر ایران کی اعلیٰ قیادت نے متبادل حکمتِ عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت سپریم لیڈر ضرورت پڑنے پر ایران چھوڑ کر ماسکو منتقل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اگر احتجاج اس مرحلے میں داخل ہو گیا جہاں سیکیورٹی فورسز قابو پانے میں ناکام ہو جائیں یا اپنی وفاداری تبدیل کر لیں، تو خامنہ ای اپنے قریبی ساتھیوں، اہلِ خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تہران سے محفوظ انخلا کے متعدد راستوں پر پیشگی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک محفوظ رہائش، اثاثوں کی منتقلی اور نقد رقوم کی دستیابی جیسے انتظامات بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں فوری اور بغیر رکاوٹ انخلا ممکن بنایا جا سکے۔
ایرانی حکام یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ خراب معیشت، بے قابو مہنگائی، قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، امریکی پابندیاں، بدعنوانی اور بدانتظامی نے عوامی غصے کو شدید تر کر دیا ہے۔ ان حالات میں سیکیورٹی ادارے بھی معاشی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں، جس کے باعث ریاستی رِٹ کمزور پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی کھلی حمایت، فوجی مداخلت کی دھمکیاں اور اسرائیل کے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملک کے اکتیس میں سے پچیس صوبوں میں ایک سو ستر سے زائد مقامات پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا، جو عوامی غصے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے مظاہروں کو بدامنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فساد پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ یہ بیان احتجاجی تشدد کے بعد ان کا پہلا عوامی ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا اور شام جیسے ممالک کی مثالیں ایرانی قیادت کے لیے واضح انتباہ ہیں، جہاں معاشی بحران نے ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سخت بیانیہ اور طاقت کے استعمال سے وقتی خاموشی تو ممکن ہے، مگر بحران کا مستقل حل ممکن نظر نہیں آتا۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو بگڑتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی واضح اور مؤثر حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی جوہری پروگرام پر ایسے لچکدار فیصلوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں جو عالمی دباؤ، خصوصاً امریکا اور اسرائیل، کو کم کر سکیں۔



