ایران پر اسرائیلی-امریکی حملے: کینسر ادویات بنانے والی فیکٹری اور مذہبی مقام کو نشانہ بنایا گیا
ایرانی حکومت کے مطابق اس حملے میں دوا سازی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی
تہران 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران میں جاری اسرائیلی اور امریکی مشترکہ حملوں کے دوران دارالحکومت تہران میں ایک بڑی دوا ساز کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو کینسر اور بے ہوشی کی ادویات تیار کرتی ہے۔ ایرانی حکومت کے مطابق اس حملے میں دوا سازی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی اور اہم پیداواری لائن کو نقصان پہنچا۔
حکومتی بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ ادارہ "توفیق دارو ریسرچ اینڈ انجینئرنگ کمپنی” ہے، جو سرکاری سرمایہ کاری ہولڈنگ کے تحت کام کرتی ہے اور مختلف اہم ادویات خصوصاً کینسر، قلبی امراض اور دیگر حساس شعبوں کے لیے اجزاء تیار کرتی ہے۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے جان بوجھ کر ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا، جو انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب شمال مغربی شہر زنجان میں ایک شیعہ مذہبی مقام "حسینیہ اعظم” پر بھی حملے کی اطلاع ملی ہے، جہاں ملبے سے دو افراد کو نکالا گیا۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
مغربی صوبہ کرمانشاہ میں بھی حملوں کے دوران ایک شہری کمپنی کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ہلاکت اور کئی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران اصفہان میں شدید بمباری کی گئی، جو ایران کے دفاعی اور جوہری تنصیبات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ادھر تہران میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور اسرائیلی و امریکی حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر عدم اعتماد کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے جاری اس جنگ میں اب تک ایران میں 1937 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیلی شہروں تل ابیب، بنی براک اور پتاح تکوا میں میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں، تاہم اسرائیلی دفاعی نظام نے بیشتر حملے ناکام بنا دیے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں ایک اسرائیلی بحری جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب امریکی فوجیوں پر ڈرون حملے بھی کیے گئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔



