بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران کا زبردست جوابی حملہ، حیفا کی بندرگاہ اور تل ابیب کا فضائی اڈہ نشانہ

ایران نے اسرائیلی رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا

تہران :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران نے پیر کے روز اسرائیل کے مختلف علاقوں پر شدید میزائل حملے کیے، جن میں تل ابیب کے نیفاتیم فضائی اڈہ اور حیفا بندرگاہ کی امونیا فیکٹری و بجلی گھر کے قریب مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کو ایران کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی اور منظم جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی اداروں کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 285 سے زائد زخمی ہوئے۔

برطانوی بحری سلامتی کمپنی "ایمبری” نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائلوں نے حیفا بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا، جس سے توانائی کے ایک مرکز میں آگ بھڑک اٹھی۔ بیت المقدس، الجلیل اور جنوبی شہر ایلات سمیت دیگر علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ میزائل حملوں کی شدت پورے اسرائیل میں محسوس کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ وہ تل ابیب اور حیفا پر داغے گئے کم از کم 10 ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، اور عوام سے فوری طور پر پناہ گاہوں میں جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ ساتھ ہی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ حملوں کی ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، کیونکہ دشمن ان کا استعمال حملے بہتر بنانے کے لیے کر رہا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کی نئی میزائل لہر نے اسرائیل کے کثیر سطحی دفاعی نظام کو جدید تکنیکوں کے ذریعے مفلوج کر دیا ہے، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے حملوں کی ویڈیوز بھی نشر کی ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے گزشتہ جمعہ سے جاری میزائل و ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں، جن میں ایرانی دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کارروائیوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر اور 14 سے زائد جوہری سائنسدان بھی جاں بحق ہوئے۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق اب تک ان حملوں میں 224 افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 90 فیصد سے زائد عام شہری شامل ہیں۔

ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور وزیر اسرائیل کاٹز نے سخت ردعمل دیا ہے۔ اسرائیل کاٹز نے پیر کو اپنے ٹیلی گرام چینل پر کہا کہ تہران کا مغرور آمر ایک بزدل قاتل بن گیا ہے جو دانستہ اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کو روکا جا سکے، لیکن تہران کے رہائشی جلد ہی اس کی قیمت چکائیں گے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب اسرائیل نے ایران کے اندر گہرائی میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔


ایران نے اسرائیلی رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا: سکیورٹی ذرائع کا انکشاف

اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جوکہ ایرانی کمانڈروں اور سائنسدانوں کے قتل کا ممکنہ ردعمل ہے۔ ’’العربیہ‘‘ کے نمائندے کے مطابق، تازہ ترین حملے میں لیکود پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے گھر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق، اسرائیلی داخلی سکیورٹی ادارے ’’شاباک‘‘ نے وزراء اور سرکردہ افراد کے اہل خانہ کو بغیر مقام ظاہر کیے نئی خفیہ رہائش گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ایک ڈرون کو تباہ کیا جو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قیصریہ میں واقع گھر کے قریب پہنچ گیا تھا، حالانکہ اس وقت نیتن یاہو گھر میں موجود نہیں تھے۔

یہ پیش رفت ایران کی جانب سے تل ابیب اور حیفا پر کیے گئے شدید ترین میزائل حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان حملوں میں اب تک 8 اسرائیلی ہلاک جبکہ 285 زخمی ہو چکے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق، ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاسداران انقلاب نے ان حملوں میں انتہائی تیز رفتار اور تباہ کن ہائپرسونک میزائل استعمال کیے۔ ذرائع کے مطابق اس بار پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں ہائپرسونک میزائلوں کو فائر کیا گیا، جو دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اپنے اہداف تک پہنچنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ صورتحال اسرائیل کے لیے غیر معمولی خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ اب ایرانی حملے صرف عسکری ٹھکانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ حکومتی رہنماؤں کے گھروں تک جا پہنچے ہیں۔


خامنہ ای کو تمام اہل خانہ سمیت زیر زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا: ایرانی ذرائع

Ayatollah Ali Khamenei

تہران، 16 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے اندر موجود باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ سمیت شمال مشرقی تہران کے علاقے لویزان میں واقع ایک زیر زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیلی حملوں کے آغاز کے چند ہی گھنٹوں بعد جمعہ کی صبح ہوئی۔ یہ خبر معروف میڈیا ادارے "ایران انٹرنیشنل” نے شائع کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبی خامنہ ای سمیت تمام قریبی افراد اس وقت ان کے ساتھ پناہ گاہ میں موجود ہیں۔

یہ اہم انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن محسن رضائی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رہے گی۔ ان کے مطابق ایران نے اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی۔

محسن رضائی نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ایران میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی منصوبے تیار کیے تھے۔

اسی دوران، دو امریکی حکام نے "روئٹرز” کو بتایا کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی طرف سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے بقول، "جب تک ایرانیوں نے کسی امریکی کو قتل نہیں کیا، ہم ان کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کریں گے۔”

دوسری طرف، اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ تساحی ہنگبی نے جمعہ کو بیان دیا تھا کہ خامنہ ای یا ایرانی قیادت کو قتل کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button