بین الاقوامی خبریں

ایران کے صہیونی دشمن پر جوابی وار سے تل ابیب کھنڈر بن گیا

ایران کا اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، 2000 میزائل داغنے کی تیاری

تہران۔تل ابیب، ۱۴؍جون (:اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کی جانب سے صہیونی ریاست اسرائیل پر الوعد الصادق 3 آپریشن کے تحت کیے گئے میزائل حملوں نے تل ابیب سمیت کئی حساس علاقوں کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔ ہفتے کی صبح ایران نے تین مرحلوں میں صرف 15 منٹ کے دوران درجنوں میزائل داغے، جنہوں نے صہیونی دارالحکومت کی چھ عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ جبکہ درجنوں دیگر کو شدید نقصان پہنچایا۔

صہیونی حکام کے مطابق رمات گان اور ریشون لتسیون میں حملے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 91 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 300 سے زائد افراد کو ان کے مکانات سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا کہ تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کے قریبی حساس مقام پر براہ راست ایرانی میزائل گرا، جس سے شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔ ہارٹز اخبار کے مطابق ایک 32 منزلہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ رمات گان میں 9 عمارتیں مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بن گئیں۔

پاسدارانِ انقلاب ایران کے مطابق یہ حملے ایرانی کمانڈروں کی شہادت اور اسرائیلی جارحیت کا جواب ہیں۔ ان کے مطابق صہیونی دشمن کے لیے اب خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی، اور انتقام کی یہ لہر جاری رہے گی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق میزائل تہران اور کرمنشاہ سے داغے گئے، جن کا ہدف اسرائیلی فوجی اور حساس مراکز تھے۔ صہیونی فوج نے حملے کے فوراً بعد عوام کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی اور دفاعی نظام کو فعال کیا، مگر میزائلوں کی شدت کے آگے وہ ناکام ثابت ہوا۔

تل ابیب، شمالی اور جنوبی اسرائیلی علاقوں میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ عمارتوں سے زخمیوں اور نعشوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

صہیونی حکومت پر شدید دباؤ ہے اور میڈیا پر سنسر شپ لگاتے ہوئے شہریوں کو حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنے سے روکا جا رہا ہے، تاکہ حقیقی نقصان کو دنیا کی نظروں سے چھپایا جا سکے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے۔ صہیونی ریاست نے جو آگ فلسطینی علاقوں پر برسائی تھی، اب وہی شعلے اس کے اپنے گھر کو خاکستر کر رہے ہیں۔


ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ، تل ابیب میں دھماکوں کی گونج

 تہران۔تل ابیب،۱۴؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران نے جمعہ کی رات اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں کی نئی بوچھاڑ کردی، جس کے نتیجے میں تل ابیب سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ حملے تہران اور کرمنشاہ سے کیے گئے۔ کرمنشاہ مغربی ایران کا ایک اہم شہر ہے۔

اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے دو مرحلوں میں داغے گئے 100 سے کم راکٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے زیادہ تر کو فضاء میں ہی روک لیا گیا۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو بم پروف پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔

تل ابیب میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جنہیں اسرائیلی فوج نے میزائلوں کی مداخلت یا اثرات قرار دیا۔ ایرانی حملوں کے عروج پر اسرائیلی شہریوں کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی، اگرچہ بعد میں پناہ گاہوں سے باہر آنے کی اجازت دے دی گئی۔

ایرانی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی ایران کی سرزمین پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سینکڑوں بیلسٹک میزائل اسرائیل کی طرف داغے گئے، اور پاسداران انقلاب نے درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

تل ابیب میں میزائل حملے کے بعد آسمان پر گہرے دھوئیں کے بادل چھا گئے، اور بلند عمارتوں پر دھماکوں کے اثرات نظر آئے۔ اسرائیلی فائر سروس کے مطابق 34 افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی بڑے واقعات پر ایمرجنسی سروسز نے ردعمل دیا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ بعض عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ فوجی ترجمان نے دن کے آغاز پر خبردار کیا تھا کہ ایران اسرائیل کے ہوم فرنٹ کو نمایاں نقصان پہنچا سکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پاس بھی ایران کے خلاف فیصلہ کن ردعمل دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔



ایران کا اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، 2000 میزائل داغنے کی تیاری

تہران/تل ابیب، 14 جون (اردو دنیا نیوز / ایجنسیاں):ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ہفتے کو ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس نے شمال مغربی علاقے میں اسرائیلی جاسوس ڈرون طیاروں کو مار گرایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ ڈرونز صوبہ سلماس کی سرحد کے قریب ایرانی فضائی حدود میں "جاسوسی” کر رہے تھے۔

ادھر اسرائیلی حملے میں تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر واقع ایک ہینگر کو نشانہ بنایا گیا جہاں لڑاکا طیارے موجود تھے۔ اس حملے کے بعد ایران کی فوج نے سخت ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلی کارروائی میں "دو ہزار میزائل اسرائیل کی جانب داغے جائیں گے”، اور یہ حملے "پچھلے حملوں سے بیس گنا زیادہ شدید ہوں گے”۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ جب تک خطرہ موجود ہے، کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ملک کے کئی علاقوں میں ایرانی ڈرونز کی آمد کے بعد سائرن بجائے گئے اور کئی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو اس کے حملوں کی "بھاری قیمت چکانی پڑے گی”۔ اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ "ہم نے تہران پر مثر حملے کیے ہیں جن میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا”۔

ہفتے کی صبح شدید بمباری

ہفتے کی صبح اسرائیل نے ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔ ایرانی میڈیا نے اطلاع دی کہ اس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیلی شہروں پر میزائلوں کی نئی بارش کی ہے۔

جمعے کی شب سے ہفتے کی صبح تک ایران نے پانچ میزائل حملے کیے جن میں تل ابیب اور بیت المقدس کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 3 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اپیل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہا:
"اب بس کریں… وقت آ گیا ہے کہ امن اور سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔”

تاہم، ایران اور اسرائیل دونوں نے مزید حملے کرنے کے اعلانات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ یہ جنگ مزید شدید ہو جائے گی۔


اسرائیلی حملے میں فورڈو اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو "محدود” نقصان پہنچا: ایران

تہران، ۱۴؍جون (اردو دنیا نیوز / ایجنسیاں):ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن (AEOI) نے  تصدیق کی ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک کی اہم جوہری تنصیبات کو محدود نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، فورڈو اور اصفہان میں واقع نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم جوہری آلودگی یا ساختی نقصان کا کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں۔

ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال وندی نے بتایا کہ جنوبی تہران کے قریب فورڈو نیوکلیئر سائٹ کو معمولی نقصان پہنچا، لیکن وہاں کوئی ساختی تباہی نہیں ہوئی۔ اصفہان میں واقع گوداموں اور دیگر وابستہ مقامات پر بھی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں آگ لگ گئی، مگر نقصان محدود رہا۔

دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ ایران کی جانب سے انہیں باضابطہ طور پر بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اصفہان، فورڈو اور نطنز کے جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

رافیل گروسی کے مطابق، نطنز میں واقع یورینیم افزودگی کی ایک پائلٹ سہولت کا بالائی حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جہاں ایران 60 فیصد تک افزودہ یورینیم تیار کر رہا تھا — جو بین الاقوامی سطح پر ایک حساس اقدام سمجھا جاتا ہے۔

گروسی نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کو فی الحال فورڈو اور اصفہان پر ہونے والے حملوں سے متعلق محدود معلومات موصول ہوئی ہیں، اور اس وقت تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان تنصیبات کے اطراف کوئی فوجی سرگرمی انجام دی گئی ہو یا نہیں۔ ایجنسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور ان تنصیبات پر حملوں نے عالمی برادری میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔


حملے سے قبل تہران کو پر سکون رکھنے کے لیے اسرائیل کا میڈیا کے سہارے چکمہ؟

تل ابیب، ۱۴؍جون (اردو دنیا.اِن / ایجنسیاں)اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک حیران کن اور فریب پر مبنی فوجی کارروائی سے قبل ایک شاطرانہ میڈیا حکمت عملی اختیار کی، جس کا مقصد تہران کو پرسکون رکھنا اور ایران کے ممکنہ ردِعمل کو مؤخر کرنا تھا۔ یہ انکشاف اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ” نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا۔

اخبار کے مطابق، ایک پرسکون رات جب دنیا ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جوہری مذاکرات کی منتظر تھی، اسرائیلی میڈیا میں وزیر اعظم نیتن یاہو کی تعطیلات اور ان کے بیٹے کی شادی کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ اس دوران پس پردہ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل ایران پر حملے کی حتمی منظوری دے رہی تھی۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق، اسرائیل نے قومی سلامتی اجلاس کو "غزہ میں یرغمالیوں سے متعلق” ظاہر کیا، تاکہ ایران کو اصل نیت سے بے خبر رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ اسرائیلی اعلیٰ حکام امریکہ روانہ ہو رہے ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے مابین ممکنہ بات چیت میں شامل ہو سکیں۔

اسرائیلی حکومت نے مزید افواہیں بھی پھیلائیں کہ نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات میں دراڑ آ چکی ہے، اور نیتن یاہو اپنے بیٹے کی شادی کے باعث اسرائیل کی فضائی حدود بند کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

یروشلم پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ تمام خبریں جان بوجھ کر ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلائی گئیں تاکہ ایران کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس میڈیا فریب کا اصل مقصد ایران کو حیرت میں مبتلا رکھنا اور حملے کی بروقت اطلاع سے محروم رکھنا تھا، تاکہ اسرائیلی فضائی حملہ مکمل طور پر موثر ثابت ہو۔

رپورٹ کے مطابق، ان حملوں میں ایرانی دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی اور عسکری اداروں کے کئی اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ جوہری پروگرام سے وابستہ کئی اہم شخصیات ہلاک ہو گئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button