بین الاقوامی خبریں

ایران کے میزائل حملے: تل ابیب کے مضافات میں تباہی، متعدد اسرائیلی زخمی

بنی براک میں میزائل حملے

حیفہ 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے اسرائیل کے وسطی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تل ابیب کے مضافاتی علاقے بنی براک میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں اس وقت کیا گیا جب علاقے میں چند گھنٹوں کے نسبتی سکون کے بعد صورتحال معمول پر آتی دکھائی دے رہی تھی، تاہم اچانک ہونے والی اس میزائل برسات نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

علاقائی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں بیلسٹک اور کلسٹر نوعیت کے میزائل استعمال کیے گئے، جن کے ٹکڑے گریٹر تل ابیب کے مختلف مقامات پر گرے۔ اسرائیلی ریڈیو نے دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم گیارہ مقامات پر کلسٹر میزائلوں کے اجزاء گرے، جس سے بنی براک، رمات گان اور تل ابیب کے دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔

اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر انفجارات کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جن میں پانی کی سپلائی کا نظام اور کئی گاڑیاں شامل ہیں۔ مقامی حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور پناہ گاہوں کے قریب رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے اس حملے کو ایک مربوط کارروائی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ساتھ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی بیک وقت شمالی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ گلیل کے علاقے شفا عمرو میں ایک عمارت کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حیفہ کے قریب کریات آتا میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ان حملوں کے ساتھ ہی عکا، خلیج حیفہ، بالائی گلیل اور تل ابیب سمیت متعدد علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس کے بعد شہریوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔

ماہرین کے مطابق یہ حالیہ پیش رفت اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مذہبی تہوار کے دوران حملوں کی رفتار میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو خطے کے امن کے لیے تشویشناک اشارہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button