بین الاقوامی خبریں

ایران کے میزائل بنکرز تک رسائی امریکہ کے لیے دشوار :پولیٹیکو رپورٹ

ایران کے زیرِ زمین میزائل ذخائر، امریکہ کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج

واشنگٹن 03 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے باقی ماندہ ذخائر کو تباہ کرنا واشنگٹن کے لیے ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ برطانوی نژاد امریکی اخبار "پولیٹیکو” کے مطابق یہ میزائل انتہائی محفوظ اور مضبوط بنکروں میں رکھے گئے ہیں، جن تک رسائی آسان نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو ایران میں ایسے تزویراتی اہداف کی کمی کا سامنا ہے جنہیں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا سکے۔ پینٹاگون کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی مشکل ہو رہی ہے کیونکہ زیادہ تر حساس تنصیبات زیر زمین یا سخت حفاظتی حصار میں موجود ہیں، جہاں فضائی حملوں کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔

ایک سابق امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے فوجی اہداف بہت کم رہ گئے ہیں جنہیں زمینی کارروائی کے بغیر نشانہ بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل ذخائر کو تباہ کرنا اس لیے بھی دشوار ہے کیونکہ یہ غالباً مضبوط بنکروں میں محفوظ ہیں، جو جدید حملوں کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔

  رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی حملوں کی اسٹریٹیجک اہمیت بتدریج کم ہو رہی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ صورتحال امریکی قیادت کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران کو سفارتی اور علاقائی معاملات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران ممکنہ طور پر اپنے ایٹمی پروگرام، مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی جہاز رانی جیسے اہم معاملات پر مذاکرات سے گریز کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی بڑھنے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے بجائے سفارتی راستے اختیار کرنا ہی پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button