ایران کے دو تازہ میزائل حملے، تل ابیب میں درجنوں زخمی، خوف کی فضا پھر چھا گئی
اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے
تہران، ۲۰؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قابض اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے دو نئی راکٹ حملے کی لہریں داغی گئی ہیں، جو وقفے وقفے سے مگر قریب الوقوع وقت میں کی گئیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب قابض فوج نے اعلان کیا تھا کہ ایران کی طرف سے فوری حملے کا خطرہ ٹل چکا ہے اور شہریوں کو پناہ گاہوں سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
پہلی میزائل لہر کے دوران جب گولان، الجلیلِ اعلیٰ و اوسط اور کرمل کے علاقوں میں خطرے کے سائرن گونجے تو حیفا کے آسمان پر کچھ میزائلوں کو فضا میں روکتے ہوئے مناظر کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئیں۔ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابتدائی اندازے بتاتے ہیں کہ پہلی لہر میں دس سے پندرہ راکٹ داغے گئے، جبکہ دوسری لہر کے میزائل تاحال اسرائیلی حدود میں نہیں پہنچے تھے۔
اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے تل ابیب اور حیفا میں اسرائیلی فوجی مراکز پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مرکب حملوں کی نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں 100 سے زائد خودکار ڈرونز کو مختلف فوجی ٹھکانوں اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان حملوں کا مقصد قابض اسرائیلی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور اس کے دفاعی نظام کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔ ایران کی اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں صہیونی وزارت صحت کے مطابق کم از کم 271 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔
صبح کے وقت ہونے والے ان حملوں کو ایران کی طرف سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا دائرہ اسرائیلی ریاست کے وسیع علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ ان بھرپور حملوں کے نتیجے میں تل ابیب میں شدید تباہی ہوئی اور شہریوں کے درمیان خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔



