بین الاقوامی خبریںسرورق

سویڈش ڈاکٹر کو ایران میں سزائے موت کیوں سنائی گئی؟

لندن ،12؍مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پچاس سالہ احمد رضا جلالی گزشتہ چھ برسوں سے ایران کی ایک جیل میں قید ہیں۔ انہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی تھی، جس پر اکیس مئی کو عمل درآمد کیا جائے گا۔احمد رضا اپنے کولیگز کے لیے ایک محترم فزیشیئن ہیں، جو آفات میں طبی امداد کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے، جس میں ماہرین کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔

عالمی سطح پر ایسے ماہرین کی مانگ بھی بہت زیادہ ہے۔ویدا مھراننیا کے لیے وہ ایک محبت کرنے والے شوہر ہیں۔ ویدا اپنے شریک حیات کی جدائی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا روگ قرار دیتی ہیں۔ وہ اپنے دس سالہ بیٹے اور انیس سالہ بیٹی کے ساتھ سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سکونت پذیر ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں ویدا نے کہا کہ یہ خیال ہی ان کے لیے ڈراؤنا خواب ہے کہ ان کے شوہر کو پھانسی دی جا رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ایران دراصل ان کے شوہر کو قربان کرنا چاہ رہا ہے۔یہ فیملی سویڈش شہریت کی حامل ہے لیکن سویڈن حکومت کی کوششوں کے باوجود احمد رضا جلالی کو سزا سنائی گئی اور اب اندیشہ ہے کہ انہیں پھانسی پر بھی لٹکا دیا جائے گا۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ جلالی کی ایران میں گرفتاری اور سزا کی وجہ یہی ہے کہ وہ سویڈش شہری بن چکے ہیں۔

جلالی ایرانی شہر تبریز میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی اور اٹلی اور سویڈن میں اپنا شاندار کیریئر بنایا۔ انہوں نے مختلف طبی جریدوں میں چالیس سے زائد تحقیقاتی مقالے تحریر کیے اور عالمی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔امریکا کی ایران عائد پابندیوں کا فی الحال مقصد یہ ہے کہ تہران حکومت سونا اور دوسری قیمتی دھاتیں انٹرنیشنل مارکیٹ سے خرید نہ سکے۔

اسی طرح ایران کو محدود کر دیا گیا ہے کہ وہ عالمی منڈی سے امریکی ڈالر کی خرید سے بھی دور رہے۔ امریکی حکومت ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی رواں برس نومبر کے اوائل میں عائد کرے گی۔ اپریل سن 2016 میں جلالی کو ایران میں منعقد کی جانے والی ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ اپنی ایرانی شناخت کی وجہ سے انہوں نے فوری حامی بھر لی لیکن ایک مرتبہ وہ تہران پہنچے تو ان کے واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیے گئے۔ایرانی سکیورٹی سروسز کا الزام تھا کہ جلالی نے ایرانی جوہری سائنسدانوں کے کوائف اسرائیلی خفیہ اداروں کو فراہم کیے۔

ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے بھی وابستہ تھے۔ یوں ایران کی ایک عدالت نے جلالی کو بغیر کسی منصفانہ مقدمے کے سزائے موت سنا دی گئی۔ایران اور عراق کی جنگ کے بعد کچھ ایرانی لوگ بچ کر سویڈن پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں نے سویڈن کی ایک عدالت میں تب ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں پر گواہی دی تھی۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ جلالی کو سنائی جانے والی سزا کا تعلق ماضی کے اس واقعے سے ہر گز نہیں ہے۔

تاہم ویدا کا اصرار ہے کہ ان دونوں واقعات کے مابین گہرا تعلق ہے۔سزائے موت دیے جانے کے حوالے سے ایران عالمی سطح پر سرفہرست ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس ایران میں مجموعی طور پر 280 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا، جن میں دو نابالغ بھی تھے۔تاہم ایران میں غیر ملکیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی شرح انتہائی کم ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایران میں کسی غیر ملکی کی سزائے موت پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم ایرانی نژاد ایسے شہری جو کسی دوسرے ملک کی شہریت کے بھی حامل ہیں، ان کی سزائے موت پر عمل کیا جاتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایرانی نژاد کینیڈین شہری حامد قاسمی اور ایرانی نژاد امریکی شہری امیر حکمتی کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے۔جلالی کی اہلیہ ویدا کے بقول ان کے شوہر پر تشدد کیا جا رہا ہے اور اب تو جلالی تکلیف سے بچنے کی خاطر مر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”دو ممالک کے مابین سیاسی مسائل کی وجہ سے ہم تکلیف میں مبتلا ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

Back to top button