بین الاقوامی خبریں

ایران کے پاس اب بھی 85 سے زائد نیوکلیائی سائنسداں موجود، اسرائیلی خفیہ ڈوزیئر میں چونکا دینے والے انکشافات

ایران کے نیوکلیائی سائنسدانوں سے متعلق اسرائیلی خفیہ ڈوزیئر

دبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے لیے سال 2025 کئی محاذوں پر دباؤ اور بحران کا سال ثابت ہوا ہے۔ ایک جانب مشرقِ وسطیٰ میں اس کی تین بڑی پراکسی تنظیمیں — حماس، حزب اللہ اور حوثی — شدید کمزوری کا شکار ہوئیں، تو دوسری جانب ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو بھی زبردست دھچکا لگا۔ مختلف خفیہ کارروائیوں کے دوران ایران کے 14 ممتاز نیوکلیائی سائنسدان مارے گئے، جن کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔

اسرائیل کے ایک خفیہ ڈوزیئر میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان ہلاکتوں کے باوجود ایران کے پاس اب بھی 85 سے زائد نیوکلیائی سائنسدان زندہ اور سرگرم ہیں، جو اسرائیل اور امریکہ کے لیے مستقل تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق موساد نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو کمزور کرنے کے لیے ایک منظم خفیہ مہم چلائی، جسے ’آپریشن نارنیا‘ کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کے تحت ایران کے تقریباً 100 نیوکلیائی سائنسدانوں کی تفصیلی فہرست اور پروفائل تیار کی گئی، جس میں ان کی نقل و حرکت، رہائش، سیکیورٹی اور روزمرہ معمولات تک شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق، ان سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کے لیے مقامی سطح پر افراد کی خدمات حاصل کی گئیں، جن میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔ حملوں کے لیے سنائپر، جدید ڈرون، بم اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ بیشتر سائنسدانوں کو یا تو ان کے گھروں میں یا روزمرہ سفر کے دوران نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

جب یہ کارروائیاں شروع ہوئیں تو ایرانی حکام نے فوری طور پر کچھ اہم سائنسدانوں کو زیرِ زمین منتقل کر دیا، جبکہ چند کو فوجی ہیڈکوارٹرز کے قریب انتہائی خفیہ مقامات پر رکھا گیا، تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔

اسی دوران ایک اور اہم واقعہ بھی سامنے آیا۔ اطلاعات کے مطابق اگست 2025 میں ایران نے اپنے نیوکلیائی سائنسدان روزبیح وادی کو پھانسی دے دی۔ ایرانی حکام کا الزام تھا کہ وادی نے حساس معلومات اسرائیل کو فراہم کی تھیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موساد نے اسی سائنسدان کے ذریعے ایران کے نیوکلیائی ماہرین کا مکمل ڈوزیئر تیار کیا۔

مزید انکشافات کے مطابق موساد کے خفیہ ایجنٹ تقریباً ایک دہائی سے تہران میں سرگرم تھے۔ یہ ایجنٹ مختلف روپ دھارے ہوئے تھے، جن میں ٹرک ڈرائیور اور عام شہری شامل تھے۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک، خصوصاً سویڈن اور دیگر چھوٹے ممالک کے سیاحوں کے ذریعے بھی ایران سے حساس معلومات اکٹھی کی گئیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر ’آپریشن نارنیا‘ کی حتمی منصوبہ بندی کی گئی، جس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی مدد بھی شامل رہی۔

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد ایران کا نیوکلیائی پروگرام شدید متاثر ہوا ہے۔ بین الاقوامی نیوکلیائی نگرانی ادارے کے مطابق ایران جون 2025 سے قبل یورینیم کی 60 فیصد تک افزائش حاصل کر چکا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران 90 فیصد تک افزائش حاصل کر لیتا تو نیوکلیائی ہتھیار بنانا اس کے لیے زیادہ مشکل نہ رہتا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ جن مقامات پر حملے کیے گئے ہیں، وہاں پہلے صفائی اور تکنیکی جانچ ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی نیوکلیائی پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button