بین الاقوامی خبریں

ایران میں احتجاج کچلنے کے لیے بسیج کی تعیناتی، ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز

“مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو طاقت سے خاموش کرنے کی کوشش نے ایران کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا۔”

تہران 12/ جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شدید معاشی دباؤ کے خلاف عوامی احتجاج نے حکومت کو سخت فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں سڑکوں پر پھیلتے مظاہروں اور ہنگاموں کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے بسیج نامی نیم فوجی دستے کو متحرک کر دیا ہے، جسے ایرانی نظام کا سب سے سخت گیر داخلی سیکیورٹی بازو تصور کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ جمعہ نمازِ جمعہ کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جاری احتجاجی لہر کو بیرونی سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بدامنی کے پیچھے امریکہ کا منظم ایجنڈا کارفرما ہے اور ایران کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ اس خطاب کے فوراً بعد پارلیمانی سفارش پر بسیج کو عملی طور پر میدان میں اتارنے کا فیصلہ سامنے آیا۔

’بسیج‘ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی یکجا ہونے کے ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد رکھی گئی تھی، جب انقلاب کے رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اسے ایک عوامی دفاعی قوت کے طور پر منظم کیا۔ ان کا تصور تھا کہ یہ فورس ایران کو بیرونی اثرات اور اندرونی بغاوت سے محفوظ رکھے گی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ دستہ حکومت کے لیے احتجاج دبانے کا ایک طاقتور ہتھیار بن گیا۔

یہ تنظیم زیادہ تر اسلامی انقلابی گارڈ کور کے زیرِ کنٹرول سمجھی جاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق بسیج سے وابستہ افراد کی تعداد کروڑوں میں بتائی جاتی ہے، جن کی عمریں 18 سے 50 سال کے درمیان ہیں۔ 2009 اور 2022 کے احتجاجی ادوار میں بھی اسی فورس نے حکومت مخالف تحریکوں کو سختی سے کچلا تھا، اور اب ایک بار پھر اسی کو بغاوت دبانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بسیج میں زیادہ تر دیہی علاقوں اور مذہبی قدامت پسند پس منظر رکھنے والے افراد شامل کیے جاتے ہیں۔ مقامی سطح پر یہ فورس مساجد اور سماجی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی مضبوط موجودگی رکھتی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر اس کی نگرانی انقلابی اداروں کے ہاتھ میں ہے۔ ناقدین کے مطابق یہی مضبوط ڈھانچہ اسے اختلافِ رائے کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے قابل بناتا ہے۔

امریکہ سمیت کئی ممالک پہلے ہی بسیج پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ عالمی انسانی حقوق تنظیموں کا الزام ہے کہ یہ فورس اختلافِ رائے کو تشدد کے ذریعے دبانے میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ایران میں 27 دسمبر 2025 سے مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا ہے کہ مظاہرین کے کئی مطالبات جائز ہیں، تاہم ان کے مطابق کچھ عناصر نے صورتحال کو ہائی جیک کر کے اسے پرتشدد رخ دے دیا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوامی غصہ اور ریاستی طاقت آمنے سامنے آ چکے ہیں، اور بسیج کی تعیناتی نے ایران کے سیاسی مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں مظالم جاری رہے تو امریکہ فوج بھیجنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button