احتجاج کے بیچ خامنہ ای کا امریکہ کو دو ٹوک پیغام، ٹرمپ پر سنگین الزامات
ٹرمپ کے ہاتھ ایرانی خون سے رنگے ہوئے ہیں-کرائے کے قاتلوں کو برداشت نہیں کریں گے: خامنہ ای
تہران :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے، جہاں مظاہرین براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں نعرے لگائے جا رہے ہیں جن میں جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کو اقتدار منتقل کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، مظاہروں کو پرتشدد بنانے میں امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ دہشت گرد ایجنٹ ملوث ہیں۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ کچھ فسادی عناصر غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور ان کا مقصد ایران میں بدامنی پھیلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
خامنہ ای نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ ایران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے فوجیوں اور قاتلوں کے طور پر کام کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ملک کے اندرونی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ رپورٹوں کے مطابق خطاب کے دوران ہجوم کی جانب سے امریکہ مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔
سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ ایران نے لاکھوں قربانیوں کے بعد موجودہ نظام قائم کیا ہے اور وہ آسانی سے کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے جون 2025 میں ایران کے جوہری پلانٹس پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ خامنہ ای نے نوجوانوں سے اتحاد اور تیاری برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک متحد قوم ہر دشمن کو شکست دے سکتی ہے۔
دوسری جانب رضا پہلوی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دی، جس کے بعد تہران اور دیگر شہروں میں بدامنی میں اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری ٹی وی نے میٹرو اسٹیشنوں، بینکوں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کی فوٹیج نشر کی اور ان واقعات کا الزام پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن پر عائد کیا۔
صورتحال کے پیش نظر جمعرات کی رات ملک کے کئی حصوں میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل کر دی گئی۔ عالمی انٹرنیٹ مانیٹرنگ اداروں کے مطابق یہ بندش ایرانی حکومت کی جانب سے کی گئی، جس کا مقصد مظاہروں کے پھیلاؤ کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر ایران میں احتجاج، عالمی طاقتوں کے الزامات اور اندرونی سیاسی کشمکش نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔



