بین الاقوامی خبریں

اسرائیل پر حماس کے حملے کا ذمہ دار ایران ہے: جرمنی

جرمنی کیلئے واحد جگہ اب اسرائیل کی حمایت اور سنگت ہے

برلن، 13اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جرمن چانسلر اولاف شولز  German Chancellor Olaf Scholz نے کہا کہ ایران نے حماس کو اس مقام تک بڑھنے میں مدد کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے جہاں اس نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل پر حملہ کیا تھا جبکہ انہوں نے غزہ میں مقیم گروپ کی حمایت کرنے والی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے کہ ایران نے اس بزدلانہ حملے میں عملاً مدد کی لیکن یہ بات ہم سب پر واضح ہے کہ ایرانی حمایت کے بغیر حماس کبھی بھی یہ حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ایران کے اعلیٰ حکام اور خطے کے بعض دیگر سرکاری عہدیداروں کے خوش کن بیانات قابلِ نفرت ہیں۔ تہران کی قیادت نے بغیر کسی شرم کے اپنا حقیقی رنگ دکھا دیا ہے اور اس طرح وہ غزہ میں اپنے کردار کی تصدیق کرتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ نے حماس کے حملے پر جشن منایا لیکن اس بات کی تردید کی کہ اس کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔جرمن پارلیمنٹ سے ایک خصوصی خطاب میں شولز نے کہا کہ ان کی حکومت حماس کی حمایت کرنے والی تمام فنڈ ریزنگ اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دے گی جس میں اس کے اقدامات کی ستائش یا اس کی علامات کی نمائش بھی شامل ہے۔انہوں نے ایک بین الاقوامی کارکن گروپ سمیدون پر بھی پابندی کا اعلان کیا جو اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی حمایت کرتا ہے لیکن جرمن حکام کا کہنا ہے کہ وہ نفرت انگیز تقریر کو فروغ دیتا اور اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔غزہ کے قریب اسرائیلی قصبوں اور دیہاتوں میں حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے سرحد پار سے ہونے والی دراندازی میں کم از کم 1,300 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کو یرغمال بنانے کے بعد جرمنی نے اسرائیل کی حمایت میں ریلی نکالی۔ اس نے تاحکم ثانی فلسطینی امداد کو منجمد کر دیا ہے۔

جرمنی نے یہودی اداروں کے تحفظ کو تیز کر دیا ہے اور بدھ کو دارالحکومت برلن میں ہونے والے فلسطینی حامی احتجاج پر پابندی لگا دی ہے۔دوسرے جرمن رہنماؤں کی طرح شولز نے کہا کہ نازیوں کے ذریعے انجام پانے والے ہولوکاسٹ کی ذمہ داری کے پیشِ نظر اسرائیل کی حمایت ان کے ملک کا تاریخی فرض ہے۔شولز نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کی تکالیف مزید بڑھنے کا خدشہ تھا ،لیکن یہ بھی حماس اور اسرائیل پر اس کے حملے کی غلطی کی وجہ سے ہے، جبکہ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی شرمناک خاموشی پر بھی تنقید کی جن کی مغربی کنارے میں قائم الفتح تحریک حماس کی حریف ہے۔غزہ کے حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جوابی بمباری کی مہم میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔شولز نے مزید کہا، یہ ضروری ہے کہ تشدد کے مزید علاقائی اضافے سے بچنے کی کوشش اور اسرائیل کے ہمسایہ لبنان میں طاقتور ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کو خبردار کیا جائے کہ وہ اسرائیل پر حملے کا خطرہ مول نہ لیں۔

جرمنی کیلئے واحد جگہ اب اسرائیل کی حمایت اور سنگت ہے

جرمن چانسلر اولاف شولس نے ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے، جنہوں نے اسرائیل پر حماس کے دہشت گردانہ حملوں کی ’تعریف کی اور ان کا جشن منایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جرمنی میں حماس کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان بھی کر دیا۔گزشتہ ہفتے کے روز اسرائیل پر حماس کے دہشت گردانہ حملے کے بعد اسرائیل کی صورت حال پر جرمن چانسلر اولاف شولس نے جمعرات بارہ اکتوبر کے روز ایک تفصیلی بیان دیا۔ اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے لیے اب واحد جگہ یہی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں اپنا یہ حکومتی بیان دیتے ہوئے چانسلر اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر اولاف شولس نے کہا کہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں اسرائیل کے ایک ہزار سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں شدید زخمی ہیں اوراسرائیلی ہسپتالوں میں اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نو ملین کی آبادی والے اس ملک میں تقریباً ہر کوئی ہی ان متاثرین میں سے کسی نہ کسی کو جانتا ہی ہے۔

 جرمن چانسلر نے حماس کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہیں اور واضح طور پر کہتے ہیں کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے شہریوں کو اس طرح کی بربریت سے بچانے اور ان کے مکمل دفاع کا حق حاصل ہے۔اولاف شولس نے ریاست اسرائیل کی سلامتی اور تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا، ”اسرائیل میں اور اسرائیل کے لیے تحفظ کو بحال کیا جانا چاہیے۔ اور اسی لیے اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کی صلاحیت ہونا چاہیے۔ اس وقت جرمنی کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ وہ اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اسرائیل کی سلامتی خود جرمنی کے وجود کا بھی جواز ہے۔


امریکہ اور قطر میں ایران کے حالیہ غیر منجمد کئے گئے فنڈز کا اجرا روکنے پر سمجھوتہ

لندن، 13اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ اور قطر کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت قطر تہران کی جانب سے 6 ارب ڈالرز کے ان ایرانی فنڈز تک رسائی کی کسی درخواست پر فی الحال کوئی اقدام نہیں کرے گا، جنہیں گزشتہ ماہ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں غیر منجمد کیا گیا تھا۔ یہ بات ایک امریکی عہدے دار نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔یہ اقدام اسرائیل پر حماس کے مہلک حملوں کے بعد اور ری پبلکنز کی جانب سے ایران کے ساتھ بائیڈ ن انتظامیہ پر جاری اس تنقید کے بعد کیا گیا ہے جس کے تحت پانچ زیر حراست امریکیوں کی رہائی کے بدلے اس کے 6 ارب ڈالرز کے اجرا پر پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ٹاپ شاٹ – امریکی شہری سیامک نمازی، عماد شرقی اور مراد طہباز 18 ستمبر 2023 کو دوحہ کے دوحہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر قطری جیٹ سے اتر رہے ہیں۔

عہدے دار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بات کی کیوں کہ اسے امریکہ اور قطر کے درمیان معاہدے کے بارے میں کسی تبصرے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔امریکی عہدے داروں نے اس تنقید کا سختی سے جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ رقم اب بھی ایران ہی خرچ کرے گا اور اسے صرف انسانی ہمدردی کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔جمعرات کے روز اسرائیل میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن سے ان فنڈز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس وقت جو فنڈز قطر منتقل ہوئے ہیں اس میں سے کوئی بھی رقم در حقیقت ایران نے نہ تو خرچ کیے ہے اور نہ ہی ان تک اس کی کوئی رسائی ہے۔

در حقیقت اس اکاؤنٹ سے فنڈ ز کی نگرانی امریکی محکمہ خزانہ کرتا ہے اور وہ صرف انسانی ہمدردی کے سامان، خوراک، ادویات اورمیڈیکل آلات کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں اور وہ کبھی بھی ایران کے ہاتھوں میں نہیں جا سکتے۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اسے ابھی ی پتہ چلانا ہے آیا کہ ایران حماس کی اس کثیر جہتی کارروائی میں براہ راست ملوث تھا جو کئی عشروں میں اسرائیل پر اس کا سب سے بڑا حملہ تھا۔اگرچہ ایران حماس کی مالی اور فوجی شعبوں میں مددکرنے والا ایک اہم ملک ہے تاہم امریکی عہدے دارو ں نے کہا ہے کہ ان کی انٹیلی جنس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ایران کا اس کی کارروائی میں کوئی براہ راست عمل دخل تھا اور انہوں نے ایران پر کوئی الزام عائد نہیں کیا ہے۔اب جب اسرائیل حماس عسکریت پسندوں کے حملوں کیخلاف انتقامی کارروائی میں اضافے کی تیاری کررہاہے، وائٹ ہاؤس جمعے کوان امریکیوں کے انخلا کے لیے پروازیں شروع کررہا ہے جو اسرائیل سے رخصت ہونا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button