بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران جنگ میں شدت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

نیویارک 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈی میں ہلچل مچ گئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی اقتصادی استحکام پر بھی اثرات مرتب کرنے شروع کر دیے ہیں۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 105 ڈالر 55 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 3 فیصد مہنگا ہو کر 103 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی کشیدگی اور سپلائی خدشات کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں عندیہ دیا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں رہا اور وہ خود توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کی موجودہ صورتحال عارضی ہے اور تنازع ختم ہونے کے بعد یہ خود بخود بحال ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور دیگر ممالک کو امریکی توانائی وسائل پر انحصار بڑھانے کا مشورہ دیا۔

ادھر ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ شدت سے مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button