ایران جنگ کے اثرات: دبئی و ابوظہبی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ، 120 ارب ڈالر کا بھاری نقصان
دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹس کو 120 ارب ڈالر کا نقصان
دبئی / ابوظہبی 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ نے متحدہ عرب امارات کی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے، جہاں دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹس سے مجموعی طور پر تقریباً 120 ارب ڈالر کی مالیت کم ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد دبئی فنانشل مارکیٹ کا جنرل انڈیکس تقریباً 16 فیصد جبکہ ابوظہبی کے ADX انڈیکس میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دبئی مارکیٹ کی مالیت میں تقریباً 45 ارب ڈالر جبکہ ابوظہبی کی بڑی مارکیٹ میں 75 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے یہ دنیا کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مالیاتی منڈیوں میں شامل ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک میں بھی اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں قطر اور بحرین کی مارکیٹس میں بالترتیب 4 اور 7 فیصد کمی ہوئی، جبکہ سعودی عرب اور عمان کی اسٹاک مارکیٹس میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکہ کی وال اسٹریٹ مارکیٹ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہ رہ سکی، جہاں S&P 500 انڈیکس میں تقریباً 7 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ سے متعلق غیر واضح بیانات بتائے جا رہے ہیں۔
اگرچہ یو اے ای کو آبنائے ہرمز کی بندش سے دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں کم نقصان ہوا، تاہم جنگ نے ملک کی حیثیت بطور عالمی سفری مرکز متاثر کی ہے۔ ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، خاص طور پر دبئی ایئرپورٹ سے آنے جانے والی پروازیں شدید متاثر ہوئی ہیں، جو بین الاقوامی مسافروں کے لیے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔
گزشتہ سال سیاحت اور سفری شعبے نے یو اے ای کی معیشت میں تقریباً 70 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا تھا، جو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 13 فیصد بنتا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق یہ صورتحال وقتی ہے۔ دبئی کی ایک یونیورسٹی کے مالیاتی ماہر نے کہا کہ یہ کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر عارضی اثر ڈال رہی ہے، مگر یو اے ای کی معیشت کی بنیادی مضبوطی برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی مراکز کی کامیابی کا انحصار صرف بحران کے دوران کارکردگی پر نہیں بلکہ ریگولیٹری نظام، لیکویڈیٹی مینجمنٹ اور ادارہ جاتی استحکام پر ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ یو اے ای نے حالیہ برسوں میں اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے مالیاتی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور 2024 میں پہلی بار اس کی اسٹاک مارکیٹ کی مجموعی مالیت ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
حکومتی منصوبے کے مطابق دبئی کو 2033 تک دنیا کے چار بڑے مالیاتی مراکز میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد مارکیٹس میں تیز بحالی کا امکان ہے۔



