ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی ڈرون حملہ
امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ
ریاض 03 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے پر دو ایرانی ڈرون حملوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں عمارت کو مادی نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سعودی وزارت دفاع نے منگل کی علی الصبح اس واقعے کی تصدیق کی۔
سعودی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پیر کی دیر رات دو ڈرون سفارت خانے کے احاطے سے ٹکرائے جس کے باعث آگ لگ گئی۔ حملے کے وقت عمارت خالی تھی، اسی لیے کوئی زخمی نہیں ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بحران اب چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی و اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے تہران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ “آپ کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ جوابی کارروائی کیا ہوگی۔” ان کے بیان کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حملے کے بعد ریاض، جدہ اور ظہران میں امریکی سفارتی مشن نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر متوقع حالات کسی بھی وقت پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے امریکی شہری اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سفارت خانے کے احاطے سے دھویں کے بادل اٹھتے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے کے لیے موقع پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہیں۔
یہ ڈرون حملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکی و اسرائیلی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
سعودی حکام نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ آیا ڈرون فضائی دفاعی نظام سے بچ کر ہدف تک پہنچے یا انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ادھر ریاض کا کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ معمول کے مطابق کھلا ہے، تاہم پڑوسی خلیجی ممالک میں فضائی حدود کی بندش کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خطے میں سفارتی و عسکری سرگرمیوں پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے



