
جی ایس ٹی کی وصولی میں 1000 کروڑ روپئے کی بے ضابطگیاں
چند ڈیلرس نے جعلی رسید تیار کئے ، محکمہ کمرشیل ٹیکس کے دو عہدیداروں نے لوٹ کھسوٹ میں تعاون کیا
حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ریاست میں چند ڈیلرس نے جعلی ٹیکس رسیدوں کے ذریعہ حکومت کو دھوکہ دیا ہے ۔ دوسری ریاستوں کے ڈیلرس کے ساتھ مل کر سازش کرتے ہوئے 1000 کروڑ روپئے کی لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے ۔ ان بے قاعدگیوں میں ریاست کے دو جی ایس ٹی عہدیدار بھی ملوث پائے گئے ہیں ۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ان عہدیداروں نے جی ایس ٹی میں بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے کے لیے تیار کئے گئے سافٹ ویر میں خامیاں پیدا کرنے میں ڈیلرس سے تعاون کیا ہے ۔ جس پر محکمہ کمرشیل ٹیکس کے کمشنر نے ان دونوں عہدیداروں کو میمو جاری کیا ہے ۔ جیسے ہی بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے ۔ حکومت نے اس کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ محکمہ کمرشیل ٹیکس کے اسپیشل سکریٹری سنیل شرما اور کمشنر ٹی کے سری دیوی نے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔
واضح رہے کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد ریونیو لکیج پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ خامیوں ، بے قاعدگیوں بے ضابطگیوں پر نظر رکھنے کے لیے اعلیٰ عہدیداروں کو الرٹ کیا گیا اور ان کی نشاندہی کے لیے ایک آئی اے ایس آفیسر کا تقرر کیا گیا ۔ ٹی کے سری دیوی کو کمشنر محکمہ کمرشیل ٹیکس بنایا گیا تو انہوں نے ٹیکس چوری ۔ اور جھوٹے ITC دعوؤں پر توجہ دی اور ریکارڈس کا جائزہ لیا تو جعلی رسیدوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہونے کا پتہ چلا ہے ۔ اس بات کی بھی نشاندہی ہوئی ہے کہ ڈیلرس نے انٹیگریٹیڈ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (IGST) کے معاملے میں بھی ڈیلرس نے (ITC) بھی وصول کیا ہے ۔ عام طور پر ایک ریاست کے ڈیلرس دوسری ریاست کے ڈیلرس کو اشیاء کی فروخت پر (IGST) مرکزی حکومت وصول کرتی ہے ۔
وصول کئے جانے والے فنڈز 50 فیصد ریاستی حکومت اور 50 فیصد مرکزی حکومت میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ لیکن پتہ چلا ہے کہ ریاست کے چند ڈیلرس نے اس کو آمدنی کا ذریعہ بنالیا ہے ۔ یہاں کے ڈیلرس نے جعلی ٹیکس رسیدیں اس طرح بنائے انہوں نے دوسری ریاستوں کے لوگوں کو سامان فروخت کیا مثال کے طور پر لوہا ، پیتل اور تانبے کے 18 فیصد ٹیکس کا سامان دوسری ریاست کو فروخت کرنے کا طریقہ کار تیار کیا ۔ اگرچہ کہ کوئی سامان منتقل نہیں کیا گیا دوسری ریاستوں کے ڈیلرس کو رسیدیں بھیجی گئی اس طرح ان جعلی رسیدوں سے 1000 کروڑ روپئے کی لوٹ کھسوٹ ہوئی ہے ۔
یہ بے ضابطگیاں اس وقت منظر عام پر آئی کمشنریٹ آف کمرشیل ٹیکسیس نے ایک خانگی کمپنی کے ساتھ مل کر لین دین ، ٹیکس چوری اور گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس کے بقایا جات کا پتہ چلانے کے لیے ایک سافٹ ویر تیار کیا تاہم کمشنریٹ نے پایا کہ محکمہ کمرشیل ٹیکس کے دو عہدیدار اس سافٹ ویر میں ایک اہم ماڈیول کو غائب کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں ۔



