صحت اور سائنس کی دنیا

کیا کورونا سے ہماری یادداشت متاثرہورہی ہے؟

سان فرانسسکو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #سونگھنے کی حس کی #شکایت اکثر کورونا وائرس کے متاثرین کو رہی ہے۔ کچھ کیسز میں #کورونا #مریضوں کو غیر حقیقی ناخوشگوار بو کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، ایسی کیفیت کو ’پیروسمیا‘ یا ’اولفیکٹری ہیلوسینیشنز‘ کہا جاتا ہے۔ان میں سے کسی ایک سے بھی شکار ہونے والا شخص افسردگی یا #ڈپریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔
دماغ کے سامنے والے حصے میں موجود اولفیکٹری بلب کے ذریعے کسی بھی #قسم کی بو کو پہچاننے میں مدد ملتی ہے۔ یہاں پر موجود اعصابی ریسیپٹرز کے ذریعے بو دماغ کے ان حصوں کو پہنچتی ہے جن کا تعلق جذبات اور یادداشت سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی نہ کسی چیز کی بو سے لوگوں کی یادیں بھی وابستہ ہو سکتی ہیں۔ جیسے ونیلا کی خوشبو سے #ماں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جب وہ کرسمس کے لیے کیک تیار کرتی تھیں۔
یا پیسٹری کی خوشبو موسم گرما میں دادی کے گھر گزرے ہوئے وقت کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مخصوص بو کسی ایسی #یاد کو جنم دے جو کچھ لوگوں کے لیے خوشگوار نہیں ہوتیں۔ جیسے مچھلی کی بو #خواتین کو #حاملہ دنوں میں متلی کی کیفیت کی یاد دلاتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے کافی عرصے بعد تک انہیں مچھلی کی بو سے کراہت کا احساس رہتا ہے۔جبکہ کسی دوسرے شخص کے لیے وہی بو خوشگوار وقت سے بھی منسوب ہو سکتی ہے۔
اس سب سے یہ نتیجہ نکلا کہ سونگھنے کی حس ہمارے جذباتی تجربات سے وابستہ ہوتی ہے۔ایک تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سونگھنے کی حس اور افسردگی کے مابین ایک باہمی رشتہ ہے کیونکہ سونگھنے کے احساس سے محروم ہونا افسردگی کے جذبات کو تیز کرتا ہے اور یہ افسردگی سونگھنے کی حس کے احساس کے کھو جانے کا باعث بن سکتی ہے۔
اس تحقیق میں 322 کورونا متاثرین بھی شامل تھے جن کی سونگھنے کی حس مکمل یا جزوی طور پر غائب تھی۔ ان میں سے 56 فیصد نے بتایا کہ سونگھنے کی حس متاثر ہونے سے انہوں نے زندگی میں خوشی کھو دی ہے جبکہ 43 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button