نئی دہلی ،18 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) نجی میڈیا ہاؤسز کی اطلاع کے مطابق دہلی پولیس نے سیکورٹی ایجنسیوں کی مدد سے جمعہ (18 نومبر) کو وزارت خارجہ میں کام کرنے والے ایک ڈرائیور کو گرفتار کیاہے، خیال رہے کہ مذکورہ ڈرائیور پر خفیہ اور حساس معلومات پاکستان بھیجنے کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کر لیا تھا۔ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اب یہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا اس کیس میں وزارت خارجہ میں کام کرنے والے مزید ملازمین شامل تو نہیں ہیں، اگر مزید ملازمین آئی ایس آئی کیلئے جاسوسی میں ملوث پائے جا تے ہیں ، تویقینی طورپر وزارت خارجہ کا بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ اعلیٰ عہدے دار اکثر ہنی ٹریپ کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن یہ شاید پہلی بار ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے کسی ڈرائیور کو نشانہ بنایا ہے۔ ملزموں سے کچھ لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز ملی ہیں۔ اس معاملہ میں وزارت خارجہ کے بیان کا ابھی انتظار ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل اگست کے مہینے میں بھی راجستھان پولیس نے ایک 46 سالہ شخص کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں دہلی سے گرفتار کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ ملزم کو 2016 میں ہندوستانی شہریت ملی تھی۔ ملزم کی شناخت بھاگ چند کے نام سے ہوئی ہے۔بھاگ چند پاکستان میں پیدا ہوئے اور 1998 میں اپنے خاندان کے ساتھ دہلی آیا تھا۔ ملزم دہلی میں ٹیکسی ڈرائیور اور مزدور کے طور پر کام کرتا تھا اور پاکستان میں اپنے رشتہ داروں کے ذریعے اپنے ’مارخور آئی ا یس آئی‘ کے کارندوں سے رابطے میں تھا۔



