سرورققومی خبریں

تبدلی مذہب گرفتاری معاملہ: ای ڈی منی لانڈرنگ کے پہلو کی تحقیقات کرے گا

نئی دہلی،25جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو اترپردیش میں کچھ بہرے طلبہ اور غریب افراد کے مبینہ طورپر #اسلام قبول کرانے پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف سے مبینہ فنڈنگ کے سلسلے میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعہ کو یہ معلومات دی۔انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا تھاجب #اترپردیش پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے اس ہفتے کے اوائل میں دہلی کے جامعہ نگر کے رہائشی دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت اترپردیش پولیس نے مفتی #قاضی #جہانگیر عالم قاسمی اور محمد عمر #گوتم کے نام سے ہے۔ اے ٹی ایس نے دعوی کیا کہ وہ اسلامی دعوہ سینٹر کے نام سے ایک تنظیم چلاتے ہیں، جس کو مبینہ طور پر غیرقانونی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے پاکستان کی انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) اور دیگر غیر ملکی ایجنسیوں سے فنڈز ملتے تھے۔

ای ڈی نے اس ایف آئی آر کا مطالعہ کیا اور منی لانڈرنگ کا کیس درج کیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات میں اس الزام پر توجہ مرکوز کریں گی کہ غیر ملکی اور ملکی ذرائع سے غیر قانونی رقم وصولی اور ملزمین اور ان کے ساتھیوں نے منی لانڈرنگ کی تھی یانہیں۔ ایجنسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تفتیش کے دوران ملزمین کی جائیدادیں قرق کرے اور اس کے بعد عدالت کے روبرو پی ایم ایل اے چارج شیٹ دائر کرنے اور قانون کے تحت تجویز کردہ تین سے سات سال کے درمیان سزا کا مطالبہ کرے۔

اترپردیش پولیس کے اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے ان افراد کی گرفتاری کے بعد میڈیا کو بتایا کہ عمر گوتم نے خود ہی ہندو مت سے اسلام قبول کیا تھا۔ انہوں نے پولیس تفتیش کے دوران شادی، رقم اور نوکری کا لالچ دے کر کم از کم 1000 افرادکو اسلام قبول کرایا۔ان دونوں افراد کے خلاف تعزیرات ہند ضابطہ (آئی پی سی) اور اتر پردیش کے تبدیلی مذہب سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ دونوں اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button