اسرائیل نے غزہ کے لیے امدادی کشتی لے جانے پر اغوا کر لیا : گریٹا تھنبرگ
قابض اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی، زندگی کے تمام آثار مٹانے کی سازش: اقوام متحدہ کے ماہرین
جنیوا، ۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ غزہ کے حق میں آواز بلند کرنے والی معروف ماحولیاتی و انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اور ان کی ٹیم کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں سے اغوا کر کے زبردستی اسرائیل منتقل کر دیا۔
گریٹا نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی حکام کی طرف سے پیش کیے گئے کسی بھی ایسے دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس میں انہیں "غیر قانونی داخلے” پر ڈی پورٹ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ہم نے کوئی قانون شکنی نہیں کی، ہم صرف محصور فلسطینیوں کی امداد اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے جا رہے تھے۔”
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ ان تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے جو ‘فریڈم فلوٹیلا’ کے ساتھ غزہ جانے کی کوشش میں اسرائیلی تحویل میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا اغوا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے۔
تھنبرگ نے مزید کہا:
"ہم بین الاقوامی پانیوں میں تھے، کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی۔ اسرائیل نے ہمیں زبردستی اغوا کیا۔”
22 سالہ گریٹا تھنبرگ ایک دن کی اسرائیلی تحویل کے بعد پیرس پہنچی ہیں جہاں وہ دیگر کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی محاصرے کے خلاف احتجاج میں شریک تھیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، کشتی کو اس وقت روکا گیا جب وہ غزہ کے قریب پہنچی اور ایک سال سے جاری سمندری محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کشتی میں 12 افراد سوار تھے جنہیں حراست میں لے لیا گیا۔
گریٹا نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد غزہ میں سامان تقسیم کرنا نہیں تھا بلکہ محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ ان کی آئندہ منزل کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پیرس سے واپس سویڈن جائیں گی۔
قابض اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی، زندگی کے تمام آثار مٹانے کی سازش: اقوام متحدہ کے ماہرین
نیویارک،۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں کہا ہے کہ قابض اسرائیل نے غزہ میں جو جرائم سرانجام دیے ہیں، وہ کھلی نسل کشی کے مترادف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے نہتے فلسطینی شہریوں کو سکولوں، یونیورسٹیوں اور عبادت گاہوں میں دانستہ نشانہ بنایا، جہاں وہ بمباری سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 90 فیصد سے زائد تعلیمی ادارے، اور نصف سے زیادہ مذہبی و ثقافتی مقامات کو تباہ کیا۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ان حملوں کا مقصد فلسطینی قوم کی تعلیمی، تہذیبی اور روحانی شناخت کو مٹانا ہے۔
اس کمیٹی کی سربراہ اور سابق اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نافی پیلے نے کہا، “ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی زندگی کے ہر پہلو کو ختم کرنے کی منظم مہم چلا رہا ہے، جو نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ نسلوں کے حقِ خود ارادیت پر بھی حملہ ہے۔”
یہ آزاد تحقیقاتی کمیشن 17 جون کو اپنی مکمل رپورٹ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کرے گا۔
مارچ 2025 کی ایک سابقہ رپورٹ میں بھی انکشاف ہوا تھا کہ اسرائیل نے فلسطینی خواتین کے طبی مراکز کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔ اب تازہ رپورٹ میں اسرائیل کے اندر بھی ان فلسطینی و یہودی طلبہ، اساتذہ اور کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر ہے جو غزہ کی حمایت میں آواز اٹھاتے تھے۔
رپورٹ میں یہ افسوسناک انکشاف بھی کیا گیا کہ خاص طور پر فلسطینی خواتین اساتذہ و طالبات کو سخت ہراسانی، ملازمتوں سے برخاستگی اور حراست جیسے اقدامات کا سامنا رہا تاکہ وہ خاموش ہو جائیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
یہ رپورٹ دنیا کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ غزہ صرف بمباری نہیں سہہ رہا بلکہ ایک مکمل نسل کشی، تہذیبی مٹاؤ اور انسانیت سوز جارحیت کا سامنا کر رہا ہے، اور عالمی برادری کی مسلسل خاموشی، انصاف کی موت کے مترادف ہے۔
یورپ میں قابض اسرائیل کے غزہ محاصرہ اور نسل کشی کے خلاف احتجاج
روم، ۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اطالوی دارالحکومت روم اور شہر میلان میں قابض اسرائیل کے غزہ محاصرے اور انسانی امدادی کشتی "میڈڈلین” پر قبضے کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ یہ کشتی "فریڈم فلوٹیلا” مہم کا حصہ تھی جو غزہ کے مظلوم شہریوں کے لیے امداد لے جا رہی تھی، مگر قابض اسرائیل نے اسے بین الاقوامی پانیوں میں زبردستی روک لیا۔
روم کے تاریخی مقام "البانتھیون” اسکوائر میں سینکڑوں افراد نے جمع ہو کر اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھائے، بینرز لہرائے جن پر تحریر تھا: "ظلم بند کرو”، "اسرائیل کو اسلحہ بھیجنا بند کرو”، "اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے” اور "بحری بیڑے کو نقصان نہ پہنچاؤ”۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ان بارہ کارکنوں کو رہا کرے جنہیں میڈڈلین کشتی پر سوار ہونے کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ ان میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن، الجزیرہ کے صحافی عمر فیاض، مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، ترک، برازیلی، ہسپانوی اور ڈچ کارکن شامل ہیں۔
میلان میں بھی "میرکانٹی اسکوائر” اور صوبائی حکومت کے دفتر کے باہر دو بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں تقریباً پانچ سو افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت، غزہ کے محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشتی پر سوار تمام افراد کو تل ابیب منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی ملک بدری کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام نے دھمکی دی کہ جو کارکن دستخط نہیں کریں گے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سنہ 2023 میں بھی ایسی ہی ایک کوشش کے دوران "ضمیر” نامی کشتی کو اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں شدید نقصان ہوا۔ سنہ 2023 کے 7 اکتوبر سے اسرائیل نے امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ غزہ میں بدترین نسل کشی شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
یہ احتجاج یورپ میں بڑھتے ہوئے فلسطین نواز جذبات کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر عالمی برادری مزید خاموش نہیں رہے گی۔
خان یونس کا الامل اسپتال بند، زخمی تڑپ رہے ہیں: عالمی ادارہ صحت
جنیوا، ۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع الامل اسپتال مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور اب وہ کسی بھی زخمی یا بیمار کو طبی امداد دینے کے قابل نہیں رہا۔
قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسپتالوں اور طبی مراکز پر مسلسل اور منظم حملے جاری ہیں۔ یہ حملے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں جن کا مقصد فلسطینی قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے۔
سنہ 2023 سے جاری اس نسل کشی نے غزہ کے نظامِ صحت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ٹیڈروس گیبریسس نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ الامل اسپتال اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، کیونکہ اس کے اردگرد قابض اسرائیل کی بمباری میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق اب اسپتال تک رسائی ممکن نہیں رہی، جس کے نتیجے میں وہ افراد بھی جان کی بازی ہار گئے جنہیں بروقت طبی امداد مل سکتی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یہ اسپتال نئے مریضوں کو داخل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، حالانکہ ہزاروں افراد ایسے ہیں جنہیں فوری طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ میڈلین اسپتال کی بندش کے بعد خان یونس میں اب صرف ناصر اسپتال بچا ہے، جہاں انتہائی نگہداشت کی سہولت میسر ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر عالمی برادری اور فریقین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے، طبی مراکز کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ادویات و طبی سامان کی ترسیل کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک رکھا جائے۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیلی ریاست نے امریکہ کی پشت پناہی میں 7 اکتوبر سنہ 2023 سے غزہ کی پٹی میں وحشیانہ درندگی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اب تک اس جنگ میں 1 لاکھ 81 ہزار سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں۔
12 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ لاکھوں فلسطینی بار بار بے گھر ہونے پر مجبور کیے جا چکے ہیں۔



