بین الاقوامی خبریں

حزب اللہ کمانڈر کے جنازے کے دوران اسرائیل کا حملہ

حزب اللہ کمانڈر وسام الطویل کے جنازے کے جلوس پر حملہ کیا

بیروت،10جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقے میں میں گذشتہ روز ڈرون حملے میں مارے جانے والے حزب اللہ کمانڈر وسام الطویل کے جنازے کے جلوس پر حملہ کیا ہے جس میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق حزب اللہ کے فیلڈ کمانڈر وسام طویل کو سوموار کے روز اسرائیل نے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کردیا تھا۔منگل کو لبنان کے سرحدی قصبیخربہ سلم میں مقتول کمانڈر کی نعش کو تدفین کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب جنازے کے جلوس میں شامل ایک گاڑی پر حملہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں خربہ سلام قصبے میں جنازے کے مقام کے قریب ایک کار کو نشانہ بنایا گیا۔خبررساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق حزب اللہ کی کارروائیوں سے واقف دو لبنانی ذرائع نے بتایا کہ نبطیہ گورنری کے علاقے الغندوریہ میں ایک کار پر حملہ کیا۔

اس کارروائی میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔جبکہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے اعلان کیا کہ مذکورہ اسرائیلی حملے میں اس کے صرف 2 ارکان مارے گئے۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب حزب اللہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے جنگجوؤں نے شہر صفد (دادو بیس) میں اسرائیلی فوج کے شمالی علاقے کی کمان کے ہیڈ کوارٹر کو متعدد حملہ آور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔اسرائیل نے تسلیم کیا کہ اس کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ کوئی مادی یا انسانی نقصان نہیں ہوا۔کل پیرکو ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں حزب اللہ کے رہ نما وسام حسن الطویل کو نشانہ بنایا گیا۔ ملک کے جنوب میں اس کی کارروائیوں کے دوران حزب اللہ کے لیے اب تک کا سب سے تکلیف دہ دھچکا تھا۔الطویل الرضوان یونٹ میں ایک عہدیدار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ یہ یونٹ حزب اللہ کی ایلیٹ یونٹ قرار دی جاتی ہے۔ اس پر اسرائیلی فوجی کیمپوں پر حملوں کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اب تک اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی باہمی تصادم کے نتیجے میں لبنانی جانب سے کم از کم 176 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حزب اللہ کے 130 سے زائد ارکان بھی شامل ہیں۔


حزب اللہ کا اپنے کمانڈر کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیلی فوجی اڈے پر حملہ

مقبوضہ بیت المقدس،10جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حزب اللہ نے لبنان سے دھماکہ خیز ڈرونز کے ذریعے پہلی بار ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ایران کے حمایت یافتہ اس گروپ نے، اس پوزیشن کو ہدف بنانے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حالیہ ہلاکتوں پر اپنے ردعمل کا حصہ قرار دیا ہے۔گروپ کی کارروائیوں سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ منگل کو بھی، ایک اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے تین جنگجو مارے گئے،، اسرائیل کے ساتھ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جھڑپوں میں اس کی فورسز میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔7 اکتوبر کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی طرف سے غزہ سے اسرائیل پر حملہ کرنے کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ 17 سالوں میں اپنی مہلک ترین جارحانہ کاروائیاں کر رہے ہیں۔

تشدد کے نتیجے میں لاکھوں افراد، لبنان اسرائیل سرحد کے دونوں اطراف سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں اور یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔حزب اللہ کے نائب رہنما نعیم قاسم نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں کہا کہ ان کا گروپ لبنان سے جنگ کو وسعت نہیں دینا چاہتا، لیکن اگر اسرائیل ایسا (توسیع) کرتا ہے تو اسرائیل کو روکنے کے لیے ضروری حد تک ردعمل ناگزیر ہے۔حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ڈرونز نے شمالی اسرائیل کے شہر صفد میں اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے، جو گزشتہ ہفتے بیروت میں حماس کے نائب رہنما صالح العاروری کے قتل اور پیر کو حزب اللہ کے سب سے سینئر کمانڈر وسام حسن طویل کی ہلاکت کے جواب میں تھا۔

اس سے قبل جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کما نڈر وسام حسن طویل کے جنازے میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی، ان کی میت کو حزب اللہ کے پیلے جھنڈے میں لپیٹ کر ان کے گاؤں کی گلیوں میں لے جایا گیا۔وسام حسن طویل نے جو گروپ کی ایلیٹ رضوان فورس کے عہدے دار تھے، جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی کارروائیوں کی کمان میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ اس سے قبل شام میں تعینات تھے، جہاں اس گروپ نے خانہ جنگی میں دمشق کی حمایت کی ہے۔حزب اللہ نے کہا کہ طویل نے 2006 میں اسرائیل میں سرحد پار سے اس چھاپے میں بھی حصہ لیا تھا جس کے دوران اس گروپ نے دو اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں آخری بڑی جنگ چھڑ گئی تھی۔

حزب اللہ کی کارروائیوں سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ اس گروپ نے جارحانہ کاروائیوں کے دوران سرحد سے تقریباً 14 کلومیٹر (8 میل) دور صفد پر حملہ کیا ہے۔دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان نے درست مقام کی نشان دہی کیے بغیر کہا کہ فضائی حملے میں شمالی بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ کوئی تباہی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔زیادہ تر تشدد سرحدی علاقے میں ہوا ہے جہاں حزب اللہ نے راکٹوں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی پوزیشنوں پر فائرنگ کی، اور اسرائیل فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کر رہا ہے۔اس تنازعے کے دوران پہلی بار اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے کنٹرول والے جنوبی مضافاتی علاقوں میں حملہ کیا ہے۔ اسرائیل نے العاروری کی ہلاکت کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔ حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے ہفتے کے روز راکٹ بھی ان کی ہلاکت کے جواب میں داغے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button