بیروت ،29نومبر (ایجنسیز) اسرائیل اور لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے ایک روز بعد ہی فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے راکٹ زخیرہ کرنے کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ سرحدی علاقے کی جانب آنے والی مشکوک گاڑیوں پر بھی جمعرات کو فائرنگ کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق سرحدی علاقوں میں گاڑیوں کا آنا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے جاری لڑائی کے بعد امریکہ اور فرانس کے تعاون سے فریقین کے درمیان منگل کو جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس پر بدھ کی علی الصباح سے عمل درآمد شروع ہوا۔
حزب اللہ کے قانون ساز حسن فدااللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل سرحدی علاقوں میں واپس آنے والوں پر حملے کر رہا ہے اور یہ اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی آج کی جانے والی خلاف ورزی ہے۔لبنان کی فوج نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے بدھ اور جمعرات کو متعدد بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔دونوں جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد سیز فائر کے مستقبل پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے جمعرات کو کیا جانے والا فضائی حملہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد پہلی کارروائی تھی۔ لبنانی سیکیورٹی ذرائع اور الجدید نشریاتی ادارے کے مطابق یہ حملہ دریائے لیطانی کے شمال میں بسیاریہ کے قریب کیا گیا۔جنگ بندی معاہدے میں شامل تھا کہ دریائے لیطانی کے جنوب میں موجود غیرقانونی فوجی تنصیبات ختم ہونی چاہئیں لیکن معاہدے میں دریا کے شمال میں موجود تنصیبات کا ذکر نہیں تھا۔اسرائیل اور حماس کے درمیان فلسطینی علاقے میں جاری جنگ کے درمیان، 28 نومبر 2024 کو، وسطی غزہ کی پٹی کے نصیرات کیمپ میں فلسطینی اپنا سامان لے کر محفوظ علاقوں کی طرف چل رہے ہیں۔
لبنان کے سرکاری میڈیا اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے جنوبی علاقوں میں پانچ مختلف مقامات پر گولے برسائے جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ تمام علاقے لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی تقسیم کی حد بندی یعنی بلیو لائن کے درمیان دو کلو میٹر کے علاقے میں واقع ہیں جسے اسرائیلی فوج نو گو زون قرار دیتی ہے۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے سرحد پر کئی مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے جو اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں اور جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہیں۔
لڑائی کی وجہ سے جنوبی سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے خاندان اپنی املاک کو دیکھنے کے لیے واپس علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج اب بھی لبنانی حدود میں موجود ہے جب کہ ڈرونز کے ذریعے سرحدی علاقوں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فورسز کو 60 روز کے اندر جنوبی لبنان کے علاقوں سے انخلا کرنا ہے۔ لیکن اس دوران کوئی بھی فریق ایک دوسرے پر حملہ نہیں کر سکتا۔



