بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ کے فائر بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی خان یونس پر وحشیانہ بمباری، القدس میں 1300 نئی غیر قانونی بستیاں منظور

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی تشویش

فائر بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی جارحیت، خان یونس میں فضائی حملے جاری

غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں فائر بندی کے دوبارہ نفاذ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں پر خوفناک فضائی بمباری کی، جس سے پورا علاقہ زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔

جمعرات کو اسرائیلی طیاروں نے کم از کم چھ فضائی حملے کیے، تاہم نشانہ بنائے گئے مقامات کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔ فوج نے علاقے کو ’’ریڈ زون‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت محاصرہ نافذ کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق مشرقی خان یونس کے محلے "معن” میں فلسطینی گھروں اور بے گھر افراد کے خیموں پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں۔ اسی طرح وسطی غزہ کے دیر البلح اور البریج کیمپ میں بھی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

گزشتہ رات بیت لاہیا کے شمال مغربی علاقے العطاطرہ میں بھی اسرائیلی فوج نے ان فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جو اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے، جس کے نتیجے میں عطار خاندان کے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے الزام لگایا کہ ہلاک شدگان حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ تھے، تاہم خاندان نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا۔

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی تشویش

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیل نے دو روز قبل ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد فائر بندی کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا تھا۔ صرف 24 گھنٹوں میں 100 فلسطینیوں کی ہلاکت نے عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ٹورک نے ان ہلاکتوں کو ’’خوفناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے تقریباً 15 ہزار زخمی اور بیمار فلسطینیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں 4 ہزار بچے شامل ہیں۔

القدس میں 1300 نئی صہیونی بستیاں، عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی

اسی دوران قابض اسرائیلی حکومت نے جنوبی القدس کی صہیونی کالونی "گوش عتصیون” میں 1300 نئے غیر قانونی رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی۔

اسرائیلی چینل 14 کے مطابق منصوبے میں اسکول، عوامی عمارتیں، پارک اور ایک تجارتی مرکز شامل ہے۔ اس منصوبے کو اس علاقے کی تاریخ کا سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر القدس کی گورنری کے مطابق قابض حکام نے العیساویہ اور بلدہ الزعیم میں فلسطینی گھروں کو مسمار کرنے کے 30 نوٹس بھی جاری کیے۔

مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے زرعی علاقوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ نابلس اور رملہ کے دیہی علاقوں میں زیتون کے درختوں کو کاٹنے اور کھیتوں میں آگ لگانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رواں ماہ اکتوبر میں اسرائیلی کنیسٹ نے ابتدائی طور پر ایک متنازعہ قانون کی منظوری دی تھی، جس کے ذریعے مغربی کنارے اور صہیونی بستی "معالیہ ادومیم” پر مکمل اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

یہ تمام اقدامات اس خطرناک منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت اسرائیل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے قیام کی سمت بڑھ رہا ہے، جب کہ عالمی برادری کی خاموشی فلسطینی نسل کشی کو مزید جواز فراہم کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button