بین الاقوامی خبریں

اسرائیل کا متنازع سزائے موت قانون: کیا یہ صرف فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے؟

"یہ قانون انصاف نہیں بلکہ امتیازی نظام کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے"

یروشلم 31 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے منظور کیے گئے ایک متنازع سزائے موت کے قانون نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متعدد یورپی ممالک فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں کسی اسرائیلی شہری کے قتل کے الزام میں گرفتار فلسطینیوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے لازمی سزائے موت دی جائے گی۔ ناقدین کے مطابق یہ قانون عملی طور پر صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ اسرائیلی شہریوں کے لیے مختلف قانونی رعایتیں موجود ہیں۔

فوجی عدالتیں، جو صرف فلسطینیوں کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں، اس قانون کے تحت سخت ترین سزائیں سنانے کی پابند ہوں گی۔ اس کے برعکس اسرائیلی آبادکاروں کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں، جہاں جج کے پاس سزائے موت یا عمر قید میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جسے ناقدین واضح امتیاز قرار دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اس قانون کو "امتیازی” اور "دوہرے نظام انصاف” کی مثال قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے اس قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرتا ہے جسے کئی ماہرین "اپارتھائیڈ” سے تعبیر کرتے ہیں۔

فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں اس قانون پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی نوعیت امتیازی ہے اور یہ جمہوری اصولوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کا حصہ نہیں، اس لیے وہاں کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ کی قانون سازی قانونی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اقوام متحدہ بھی اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

قانونی و انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے لیے الگ الگ قانونی نظام پہلے سے موجود ہے، جہاں فلسطینی فوجی قوانین کے تحت اور آبادکار سول قوانین کے تحت چلتے ہیں، جس سے انصاف کی فراہمی میں واضح عدم مساوات پیدا ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فوجی عدالتوں میں فلسطینیوں کے خلاف سزا کی شرح انتہائی زیادہ ہے، جبکہ اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف مقدمات میں سزا کی شرح نہایت کم رہی ہے، جس سے اس نئے قانون کے مزید امتیازی اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان خبردار کر رہے ہیں کہ سزائے موت جیسے ناقابل واپسی اقدام کو اس نوعیت کے متنازع قانونی نظام میں شامل کرنا نہ صرف انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button